15 February, 2008 - Published 18:17 GMT
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان
اٹھارہ فروری قریب آنے کے باعث سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی بھاگ دوڑ اور جوڑ توڑ کا سلسلہ آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ پورے ملک کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی انتخابات کے حوالے سے کافی گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان چونکہ مولانا فضل الرحمن کا حلقہ ہے اس حوالے سے یہ اور بھی اہم سمھجا جاتا ہے۔
اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان میں قومی اسمبلی کی نشت کے لیے دو ہی امیدوار ہیں جن میں مولانا فضل الرحمن اور پیپلز پارٹی کے فیصل کریم کنڈی شامل ہیں۔ دونوں امیدوار بھرپور کوشش کر رہے ہیں مگر سکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن احتیاط کیساتھ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ڈیرہ اسماعیل خان میں آباد وزیر اور محسود قبائل کو رام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وزیر اور محسود قبائل کی ایک بڑی تعداد نے گزشتہ روز ایک جلسہ عام میں فیصل کریم کنڈی کی حمایت کا اعلان کیاہے۔
ان قبائل کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سال سے انہوں نے اسلام کے نام پر مولانا کا ساتھ دیا ہے۔’اب معلوم ہوا کہ مولانا اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دے دیتے رہے ہیں۔انہوں نے وزیرستان آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔‘
وزیر محسود قبائل کے فیصل کریم کی حمایت میں اعلان کے بعد مولانا نے سنیٹر صالح شاہ محسود اور سابقہ ممبر قومی اسمبلی معراج الدین محسود کی قیادت میں وزیر اور محسود قبائل کو جمعہ کو مولانا فضل الرحمن کے رہائش گاہ پر بلایا تھا لیکن وہ وہاں نہیں گئے۔
اس موقع پر مولانا نے کہا کہ تمام قبائل ان کے بھائی ہیں۔ ’ہم انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘
ان کے مطابق وزیرستان میں طاقت کا استعمال بلاجواز ہے اور وزیرستان مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالم کفر کے ایجنڈے کی تکمیل پر مشرف، ق لیگ اور پیپلز پارٹی ایک سے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برسراقتدار آ کر وہ وزیرستان میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروکار لائیں گے اور مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریغے نکالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن سیمت تمام سیاسی رہنماؤں کی سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ان کے مطابق پولنگ سٹیشنوں پر تین ہزار پولیس اہلکاروں سیمت ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی اور کسی بھی ممکنہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کو بھی چوکس کر دیا گیا ہے۔