15 February, 2008 - Published 23:37 GMT
انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان جانے والے امریکی سینیٹرز کے وفد کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستانی انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے تو وہ امریکی حکومت پر پاکستان کی فوجی امداد بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔
پاکستان جانے والے سینیٹرز کے تین رکنی وفد کی قیادت سینیٹر جوزف بائڈن کر رہے ہیں جبکہ باقی شرکاء میں سابق ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار سینیٹر جان کیری کے علاوہ سینیٹر چیک ہیگل شامل ہیں۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر جوزف بائڈن نے کہا کہ امداد میں کمی ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے پاکستانی صدر مشرف پر شفاف انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔
انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ کیا یہ(انتخابات) صاف اور شفاف ہوں گے، مجھے شک ہے۔ تاہم میں امید کرتا ہوں کہ ایسے انتخابات ہوں گے جو ملک کے معتدل مزاج عوام کے لیے باعثِ اطمینان ہوں اور اگر ایسا نہ ہوا تو عدم استحکام پیدا ہو گا اور میرے خیال میں اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی‘۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وفد کے ایک رکن سینیٹر چک ہیگل کا کہنا تھا کہ’ ہمیں اپنی توجہ انتخابات کے شفاف اور آزادانہ انعقاد پر مرکوز رکھنی چاہیے اور اگر ہم ایسا ہوتا نہیں دیکھتے تو ہم اس کے نتائج سے نمٹ لیں گے‘۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔
ڈیموکریٹ سینیٹر جان کیری نے کہا کہ’حکومت پاکستان کو سمجھ لینا چاہیے کہ محض اقتدار سے چمٹے رہنے سے صرف انتہا پسندی مزید مضبوط
ہوگی‘۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات جنوبی ایشیاء میں استحکام کے لیے نہایت ضروری ہیں اور امریکی سینیٹرز کے پاکستان
جانے سے پاکستانی عوام اور سیاسی رہنمائوں کو یہ پیغام بھی ملے گا کہ امریکہ پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا خواہاں
ہے۔