آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایل سلواڈور انجینئرز، ڈاکٹروں اور فلسفیوں کو پانچ ہزار پاسپورٹ مفت کیوں دے رہا ہے؟
وسطی امریکی ملک ایل سلواڈور کے صدر نائیب بوکیلے نے بیرونِ ملک کے سائنسدانوں، انجینئرز، ڈاکٹروں، آرٹسٹس اور فلسفیوں کو ’پانچ ارب ڈالر‘ مالیت کے پانچ ہزار پاسپورٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ہم بیرون ملک سے انتہائی ہنر مند سائنسدانوں، انجینئروں، ڈاکٹروں، فنکاروں اور فلسفیوں کو پانچ ہزار مفت پاسپورٹ (جن کی مالیت وہاں کے پاسپورٹ پروگرام میں 'پانچ ارب ڈالر' کے برابر ہے) کی پیشکش کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ تعداد ہماری آبادی کے 0.1 فیصد سے بھی کم کی نمائندگی کرتی ہے، اس لیے انھیں مکمل شہری کا درجہ دینا، جس میں ووٹنگ کے حقوق بھی شامل ہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
صدر بوکیلے کا کہنا ہے کہ کم تعداد کے باوجود، ان کی شراکت کا ہمارے معاشرے اور ہمارے ملک کے مستقبل پر بہت گہرا اثر پڑے گا۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم بیرونِ ملک سے یہاں منتقل ہونے والے خاندانوں اور اثاثوں پر صفر فیصد ٹیکس اور ٹیرف کو یقینی بنا کر ان کی نقل مکانی میں سہولت فراہم کریں گے۔ اس میں تجارتی قیمت والی اشیا جیسے آلات، سافٹ ویئر اورانٹیلیکچوئل پراپرٹی شامل ہیں۔
ایل سلواڈور کہاں واقع ہے؟
ایل سلواڈور وسطی امریکہ کا سب سے چھوٹا ملک ہے، یہ امریکی ریاست میساچوسٹس سے بھی چھوٹا ہے۔
پہاڑوں سے گھرے اس ملک کے ایک طرف بحرالکاہل اور ہمسائیہ ممالک میں گوئٹے مالا اور ہونڈورس شامل ہیں۔
سنہ 2023 تک اس ملک کی آبادی 65 لاکھ بتائی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں کاسٹیلین، جسے ہسپانوی زبان بھی کہا جاتا ہے، سرکاری زبان ہے اور ایل سلواڈور میں تقریباً یہی بولی جاتی ہے۔
ایل سلواڈور میں زیادہ تر آبادی (تقریباً 84 فیصد) کا تعلق مسیح مذہب سے ہے۔ دو بڑے مذہبی گروہ کیتھولک (47 فیصد) اور پروٹسٹنٹ (33 فیصد) ہیں۔
ملک کی معاشی صورتحال کیسی ہے؟
جون 2021 میں، صدر نائیب بوکیلے نے کہا تھا کہ وہ ایل سلواڈور میں بٹ کوائن کو قانونی ٹینڈر بنانے کے لیے قانون سازی کریں گے۔ بٹ کوائن کا قانون ایل سلواڈور کی قانون ساز اسمبلی نے 9 جون 2021 کو منظور کیا تھا۔ بٹ کوائن سرکاری طور پر 7 ستمبر 2021 کو قانونی ٹینڈر بن گیا۔
نئے قانون کے مطابق غیر ملکی ایل سلواڈور تین بٹ کوائن کی سرمایہ کاری کے مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔
بٹ کوائن کو قانونی ٹینڈر کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔
ملک کی اکثریت کا ماننا ہے کہ بٹ کوائن کو قانونی ٹینڈر کی حیثییت نہیں دینی چاہیے۔
سلواڈوران چیمبر آف کامرس کے ایک سروے کے مطابق، مارچ 2022 تک ملک میں صرف 14 فیصد تاجروں نے بِٹ کوائن کے استعمال کے خلاف کم از کم ایک بٹ کوائن ٹرانزیکشن پراسس کی۔
ایل سلواڈور فی کس ترسیلات زر کے لحاظ سے خطے میں سرفہرست ہے، جو کہ ملک کی تقریباً تمام برآمدی آمدنی کے برابر ہے۔
2019 میں 2.35 ملین سلواڈورین امریکہ میں رہتے تھے اور تمام گھرانوں میں سے تقریباً ایک تہائی نے ترسیلات زر وصول کیں۔
امریکہ میں رہنے والے سلواڈورینز کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات جو کہ ایل سلواڈور میں خاندان کے افراد کو بھیجی جاتی ہیں، غیر ملکی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور تجارتی خسارے کو پورا کرتی ہیں۔
2000 کی دہائی کے اوائل سے ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو کہ 2006 میں 3.32 بلین ڈالر یا جی ڈی پی کے تقریباً 16.2فیصد سے بڑھ کر، تقریباً 6 بلین ڈالر (2019 میں جی ڈی پی کا تقریباً 20 فیصد جو ورلڈ بینک کے مطابق دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے)۔
’گینگز کے خلاف جنگ‘
وسطی امریکی ملک ال سلواڈور میں جرائم پیشہ گروپوں کے درمیان گينگ وار کے سبب قتل اور غارت گری ایک عام بات تھی۔
صدر بوکیل نے مارچ 2022 میں ’گینگز کے خلاف جنگ‘ کا اعلان کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کو منظور کیا تھا جس میں کئی بار توسیع ہو چکی ہے۔
ہنگامی اقدامات متنازع رہے ہیں کیونکہ وہ کچھ آئینی حقوق کو محدود کرتے ہیں، جیسے کہ سکیورٹی فورسز کو بغیر وارنٹ مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی اجازت دینا۔
انسداد جرائم کی مہم میں 64 ہزار سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بے گناہ لوگوں کو پالیسی میں پھنسایا گیا ہے، لیکن بوکیل کا گینگ مخالف دباؤ سیلواڈور کے لوگوں میں مقبول ہے۔