آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یورپی یونین میں مبینہ کرپشن: یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر گرفتار، خلیجی ریاست سےرشوت لینے کا شبہ
- مصنف, جیمز گریگوری
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
یورپی پارلیمنٹ کے امور خارجہ کی سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ پورپی پارلیمان میں بدعنوانی کے الزام میں ہونے والی گرفتاریاں ’انتہائی پریشان کن‘ بات ہے، جبکہ آئرلینڈ کے وزیر خارجہ سائمن کونوی کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمان کے چار افراد پر الزامات ’نہایت تباہ کن‘ ہیں۔
یاد رہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے اعلی عہدیداروں کو شدید بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے اور اب تک جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں پارلیمنٹ کی نائب صدر ایوا کائلی بھی شامل ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق انہیں شک ہے کہ ایک خلیجی ریاست، اطلاعات کے مطابق قطر، نے یورپی پارلیمان پر اثر انداز ہونے کے لیے اعلیٰ عہدیداروں کو پیسے اور تحائف دیئے۔
جمعہ 12 دسمبر کو بلیجئیم کی پولیس نے برسلز میں 16 مقامات پر چھاپے مارے جہاں سے انھوں نے تقریباً چھ لاکھ یورو (چھ لاکھ 32 ہزار ڈالر) نقدی اپنے قبضے میں لے لی۔ پولیس نے کچھ کمپیوٹر اور موبائل فون بھی قبضے میں لیے ہیں جن کا اب معائنہ کیا جائے گا۔
بلجیئم کے حکام نے اتوار کو کہا تھا چار افراد کو الزامات کا سامنا ہے جبکہ حراست میں لیے جانے والے دو دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ حکام نے ان افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے، تاہم کہا جا رہا کہ کہ پارلیمنٹ کی نائب صدر ایوا کائلی کا نام ان میں شامل ہیں۔
بلجیئم کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے دفترسے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے ’افراد پر الزام ہے کہ وہ ایک جرائم پیشہ تنظیم کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ اور کرپشن کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایوا کائلی گزشتہ آٹھ برس سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن رہی ہیں، لیکن حالیہ الزامات کے بعد انھیں اپنی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وہ یورپی پارلیمنٹ کے صدر روبرٹا میسٹولا کے 14 نائب صدور میں سے ایک تھیں۔
ان الزامات کے بعد ایوا کائلی کو یونان کی دائیں بازو کی جماعت پاسول پارٹی سے بھی نکال دیا گیا اور اطلاعات کے مطابق یونانی حکام نے ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیئے ہیں۔
یورپی یونین میں حزب اختلاف کے ارکان اور کچھ نگران تنظیموں کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں رشوت ستانی کے الزامات کی اس ادارے کی تاریخ کے سب سے بڑے کرپشن سکینڈل میں ایک ہو سکتا ہے۔
مسٹر بورل نے کہا کہ یورپی یونین کے سابق صدر کی حیثیت سے انھیں یقیناً بہت پریشانی لاحق ہے۔‘
مسٹر بورل نے کہا تحقیقات کے دوران یورپی یونین کی ڈپلومیٹک سروس سے کسی کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔
آئرلینڈکے وزیر خارجہ سائمن کوینی نے کہ کرپشن کے الزامات بہت تباہ کن ہیں اور ہمیں معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تحقیق کاروں نے کہا کہ انھیں شبہ ہے کہ ایک خلیجی ریاست کئی مہینوں سے مشیروں کے ذریعے یورپی پارلیمنٹ کے سیاسی اور معاشی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی تھی۔
مقامی ذرائع ابلاغ نے قطر کا نام لیا۔ التبہ قطر کی حکومت نے کہا ہے کہ کسی بے ضابطگی کا الزام بہت غلط ہے۔
مس کائیلی کے بطور یورپی یونین کے نائب صدر کی ذمہ داریوں میں مشرق وسطیٰ بھی شامل ہے، اور وہ ماضی میں قطر کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
مس میٹسولہ ممبران پارلیمنٹ کے گھروں کی تلاشی کی نگرانی کے لیے اپنے ملک مالٹا سے برسلز پہنچی تھیں ۔
ان کے ترجمان نے کہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ بدعنوانی کے خلاف متحد ہے اور تحقیق کاروں سے مکمل تعاون کر رہی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ یورپی یونین کا واحد منتخب ادارہ ہے۔ ستائیس ممبر ممالک سے 705 ممبران منتخب کیے جاتے ہیں۔