آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بریڈمین میوزیم: ’مجھے کسی نے کوچ نہیں کیا، کسی نے نہیں بتایا کہ بیٹ کو کیسے پکڑنا ہے‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سڈنی
- وقت اشاعت
آسٹریلوی کرکٹ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اپنے ہیروز کے کارناموں کو کس طرح دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے اور اگر یہ ہیرو عظیم بیٹسمین سرڈان بریڈمین ہوں تو اس بات کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
سرڈان بریڈمین سڈنی کے قریب واقع علاقے کوٹا مونڈرا کے جس گھر میں پیدا ہوئے تھے اسے میوزیم کا درجہ دیا جا چکا ہے جہاں اُن کے زیراستعمال اشیا رکھی ہوئی ہیں لیکن اگر کوئی وہاں جا کر یہ میوزیم نہیں دیکھ سکتا تو پھر بھی اس کے لیے دو مواقع موجود ہیں۔
ان میں سے ایک بورل کے علاقے میں ’بریڈمین میوزیم‘ ہے۔ اس کے علاوہ ایڈیلیڈ میں ’بریڈمین کلیکشن‘ کی شکل میں قیمتی خرانہ سب کی توجہ کا مرکزبھی بنا ہوا ہے۔
اس بریڈمین کلیکشن کی خواہش خود سرڈان بریڈمین نے ظاہر کی تھی کیونکہ انھوں نے ایڈیلیڈ میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ اس میوزیم کو سنہ 2008 میں ان کی وفات کے سات سال بعد کھولا گیا تھا۔
بریڈمین کلیکشن کیا ہے؟
ایڈیلیڈ اوول گراؤنڈ میں آنے والا ہر شخص میچ دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس جگہ کو ضرور دیکھنا چاہتا ہے جسے بریڈمین کلیکشن کہتے ہیں۔
اسے آپ ایک چھوٹا سا میوزیم بھی کہہ سکتے ہیں جس میں سرڈان بریڈمین کی ذات سے وابستہ اشیا رکھی ہوئی ہیں۔ یہ گراؤنڈ کے ریور بینک سٹینڈ میں واقع ہے۔
یہ بریڈمین کلیکشن عام طور پر میچ والے دن کھلا رہتا ہے لیکن ساؤتھ آسٹریلیا کرکٹ نے جس کے تحت یہ ایڈیلیڈ اوول گراؤنڈ آتا ہے اس میوزیم کے سلسلے میں سخت قواعد وضوابط بنا رکھے ہیں۔
کسی کو اس میوزیم میں ویڈیو بنانے یہاں تک کہ تصاویر بناتے وقت فلیش گن استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بریڈ مین کلیکشن کا خزانہ
بریڈمین کلیکشن میں داخل ہوں تو سب سے پہلے سرڈان بریڈمین کے اس مشہور مقولے پر نگاہ جا کر ٹھہر جاتی ہے۔ ’مجھے کسی نے کوچ نہیں کیا۔ مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ بیٹ کو کس طرح پکڑنا ہے۔‘
سرڈان بریڈمین کا قد آدم پوٹریٹ بھی جیسے کہہ رہا ہو کہ مجھے دیکھے بغیر آپ کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ پینٹنگ آسٹریلوی فنکار بل لیک نے 1990 میں بنائی تھی۔
بریڈمین کلیکشن میں یوں تو سرڈان بریڈمین کے زیراستعمال کرکٹ بیٹ اور بلیزر کیپ وغیرہ بھی موجود ہیں لیکن کچھ اشیا منفرد ہیں مثلاً وہ واٹر ٹینک جس پر وہ سٹمپ اور گالف کی گیند کے ساتھ گھنٹوں پریکٹس کیا کرتے تھے۔
سرڈان بریڈمین نے اپنے کریئر میں مضامین اور اخباری کالم بھی تحریر کیے۔ ان کے استعمال میں رہنے والا ٹائپ رائٹر بھی یہاں محفوظ ہے۔ ایک جانب ان کا صوفہ، ریڈیو اور گراموفون رکھے ہوئے ہیں۔
کچھ یادگار تصاویر بھی میوزیم میں آویزاں ہیں۔ ایک تصویر میں بریڈمین ملکہ الزبتھ اور شہزادی مارگریٹ سے گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔
ایک تصویر میں وہ بلیئرڈ کھیل رہے ہیں۔ ایک تصویر میں وہ پیانو کی دھن سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ ایک اور تصویر میں وہ اپنی بیگم اور بیٹی کے ساتھ خوشگوار موڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔
سرڈان بریڈمین کی وفات کے بعد رکھی گئی تعزیتی کتاب بھی میوزیم میں موجود ہے۔
سرڈان بریڈمین کے یہ الفاظ بھی اس میوزیم میں نمایاں پڑھے جا سکتے ہیں ’ہر گیند اسی جگہ گئی جہاں میں اسے پہنچانا چاہتا تھا لیکن اس وقت تک جب ایک گیند نے مجھے آؤٹ کر دیا۔‘
سرڈان بریڈمین کا اشارہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی آخری اننگز کی طرف تھا جس میں وہ صفر پر آؤٹ ہو گئے تھے۔