تقسیم برصغیر: میکہ بریلی، سسرال کراچی۔۔۔ ’امی کا دل دکھی تو ہو گا لیکن کبھی ان کو روتے نہیں دیکھا‘

    • مصنف, عروج جعفری
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
  • وقت اشاعت

میں جب بھی امی کی یادوں کے ساتھ ماضی میں جاتی ہوں تو میرے ذہن میں ایک ہی تصویر ابھرتی ہے، میں دیکھتی ہوں کہ میری امی ثریا جعفری کراچی کے بڑے پرانے گھر میں ڈائل فون اٹھا کر بریلی فون کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

نانا کے گھر تو اس وقت فون نہیں ہوا کرتا تھا ، امی میری ممانی کو جو بریلی گورنمنٹ اسلامیہ انٹر گرلز کالج میں پڑھاتی تھیں ، ٹرنک کال بک کرایا کرتی تھیں۔

کال کبھی لگتی اور کبھی نہ لگتی۔ اب یہ یاد کرنا مشکل ہے کہ امی ہر ماہ یہ کال بک کیا کرتیں، یا جب کوئی خاص بات ہوتی یا جب سب کی یاد آتی۔ مگر وہ دن ہوتا مشکل تھا، ہندوستان پاکستان کے تعلقات جتنا مشکل۔

ہم پانچوں بہن بھائی امی کا یہ انتظار اکثر ہی دیکھا کرتے۔ اگر ابو گھر پر ہوتے تو وہ بھی ایک ہاتھ میں سگریٹ جلائے کال بک کرانے میں لگے رہتے۔ وہ امی کی اس جدائی کے سب سے بڑے گواہ اور محسوس کرنے والے تھے۔

ایک ظلم یہ بھی تھا کہ کال تین منٹ کی بک ہوا کرتی۔ تین منٹ اور پوری زندگی کا حال کوئی کتنا سنا سکتا تھا۔

شاید امی کی گفتگو اور بریلی کی یادوں بھری کہانیوں سے ہم تینوں بہنوں نے لکھنا سیکھا کہ کس طرح لفظوں سے چہرے بنے جاتے ہیں اور کس طرح تھوڑے وقت اور کم الفاظ میں اپنی بات کہی جا سکتی ہے۔

امی کو کبھی میں نے ان کالز پر روتے نہیں دیکھا۔ وہ اسی صبر سے بات کرتیں جو وہ اپنے جہیز کی چھوٹی سی گٹھڑی میں ساتھ لیے پاکستان آگئی تھیں۔

دسمبر 1963 میں امی ابو سے شادی کر کے بریلی سے پاکستان آ ئیں اور اسی صبر کے ساتھ امی نے 1987 میں بریلی سے آنے والا وہ ٹیلی گرام بھی پڑھا جس میں 8 اپریل کو میرے نانا کی وفات کی خبر تھی۔

امی کی شادی دسمبر 1963 میں اپنی پھپی کے گھر پاکستان میں ہوئی تھی۔ جی میرے نانا اور دادی بہن بھائی تھے۔

میرا ننیہال بریلی کا زمیندار گھرانہ اور ابو کا خاندان ترقی پسند پڑھا لکھا گھرانہ۔ میرا ننہیال تو 1947 میں اپنی زمین اور زمینداری سے جڑ کے بیٹھا رہا اور ابو کا خاندان جو سرکاری نوکریوں اور فوج سے منسلک تھا وہ نومبر 1947 میں پاکستان چلا آیا۔

میرے پردادا بدایوں کے تحصیل دار تھے اور سر فرانسس موڈی کے قریبی دوست بھی اور اس دوستی نے میرے دودھیال کو پاکستان میں دوبارہ بسنے میں بھی مدد دی تھی۔

اس سب کے دوران میری امی کا گھرانہ ترقی اور خوشحالی کی کسی ایسی نہج پر نہ تھا جو ان کو ایک بہتر مستقبل دے سکتا۔

ماں کے پیچھے چھ بھائی اور ایک بہن بھی پیدا ہوئیں۔ نانا اور نانی انھی سب کو سنبھالنے میں مصروف تھے اور ہندوستان میں حکومت نے لینڈ ریفارمز کر دی تھیں جو مسلمان فیوڈل مزاج والے گھرانوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوئی تھیں۔ امی کا گھرانہ بھی اسی کی لپیٹ میں آیا۔

امی اپنے والدین کے ساتھ ان سبھی حالات سے نمٹنے میں بہت صبر اور ذمہ داری سے ساتھ کھڑی رہیں۔ بریلی سے کچھ دور امی کا خاندان اپنے آبائی گاوں کھجوریہ شری رام میں جم کے بیٹھا رہا۔

میرے ماموں تو سکول جاتے مگر امی کے استاد گھر آ کر انھیں پڑھایا کرتے۔ امی نے ادیب فاضل اور منشی فاضل کے امتحان پاس کیے تھے۔

انھیں اردو ، ہندی اور فارسی زبان کا ادب پسند تھا۔ وہ حافظ ، سعدی اور امیر خسرو کا کلام گایا بھی کرتی تھیں ۔ اور کبیر کے دوہے بھی انہیں یاد تھے۔

بریلی سے دوری

امّی شادی کے چھ سال بعد 1969 میں پہلی بار انڈیا واپس آئیں کیونکہ 1965 کی جنگ درمیان میں آچکی تھی اور ہم ہمیشہ پڑوسی کم، دشمن زیادہ بنے رہے۔

ہم ہمیشہ پڑوسی کم اور دشمن زیادہ بنے رہے۔ یہ سال امی اور ان کے والدین نے کیسے کاٹے اس کا اندازہ صرف ان آنسوؤں سے ہوتا جو یہ ایک دوسرے سے ملنے پر گھنٹوں بہایا کرتے۔

سنہ 1969 کے بعد پھر 1971 کی جنگ شروع ہو گئی اور ہم 1979 سے پہلے بریلی نہیں جا سکے۔ یہ سب وہ سال تھے جب خط بھی نہیں آتے تھے ورنہ شاید امی کو ڈاکیے کے انتظار میں کچھ سکون مل جاتا۔

سنہ 1977 میں جیسے ہی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات دوبارہ شروع ہوئے، امّی نے بریلی جانے کا فیصلہ کیا۔

تین دن کا طویل اور مشکل سفر

میں نے امی کو برسوں انڈیا کے ویزے کے لیے کوشش کرتے دیکھا۔ میرے والدین دونوں اس جدوجہد میں ساتھ ہوتے تھے۔

1979 میں ٹرین کا وہ سفر میری زندگی کا پہلا کراس بارڈر سفر تھا۔ تین دن طویل۔۔۔کراچی سے لاہور پھر پیدل واہگہ بارڈر کراس کر کے اٹاری پہنچے۔ وہاں سے امرتسر، ہاوڑہ میل سے ہم ایک رات کے بعد بریلی پہنچے، ہم پانچ بہن بھائی اور ماں۔

امّی نے ایک بار پھر اپنے بھائیوں کو کئی سال بعد سٹیشن پر دیکھا اور امّی کو انھیں پہچاننے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ امّی نے ہاتھ ہلایا اور بھرے بریلی سٹیشن پر ان کے دو بھائی ہماری بوگی کی طرف بھاگے۔ یہ میری اپنے ماموؤں سے پہلی ملاقات کی جھلک تھی۔

میری عمر تقریباً پانچ سال ہو گی۔ گرمیوں میں ٹرین کا سفر شاید امی کا اپنے گھر والوں سے ملنے کا شوق تھا ورنہ اتنی گرمی میں گھر سے کوئی نہ نکلتا۔

میں نے 1979 میں اپنے سفر کے دوران امی اور نانا کو ہارمونیم پر ایک ساتھ گاتے ہوئے بھی سنا۔ اب لگتا ہے کہ امی کے ہاتھ بھی نانا جیسے تھے۔ دونوں نے شاید برسوں بعد سہگل کا کوئی گانا گایا تھا۔

بریلی کے پرانے شہر میں ماموں کے گھر کی بڑی راہداری، اس میں نصب ہینڈ پمپ اور پرانے طرز کا بیت الخلا ہم پانچ بھائی بہنوں کو حیران کر دیتے تھے کیونکہ ہم ٹھہرے کراچی کے شہری بابو بچے اور یہ تھا بریلی کا پرانا محلہ

بریلی کی یادیں

بریلی کے کل پانچ سفر میں نے امی کے ساتھ کیے۔ کبھی ٹرین, کبھی جہاز سے۔ جن میں دو بار ابو بھی ہمارے ساتھ تھے۔امی کے لیے بریلی جانا جیسے الٹے قدموں ماضی میں جانا ہوتا۔

پروال کی سبزی سے لے کر چاولہ ریستوران کے چھولے بٹھورے تک، دینا ناتھ کی لسّی، کٹھل کی سبزی، گڑ کی پوریاں، نانی کے ہاتھ کا اچار اور کالے تیتر کا شوربہ۔۔۔ یہ سب ان کے لیے بہت خاص تھے۔

بریلی میں ہی انھوں نے 1981 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ایک دوجے کے لیے‘ دیکھی۔

امی کو ساڑھیوں کا شوق تھا اور وہ بریلی سے ساڑھیاں خریدا کرتی تھیں۔ زری بارڈر کے ساتھ سوتی اور ریشمی ساڑھیاں خریدتے تھے۔ اس کے ساتھ وہ چکن کاری بلاؤز کے ٹکڑوں کو میچ کر کے خریدتی تھیں۔

ابو کے لیے کھدر اور سلک کے شرٹ پیس بھی ضرور لیے جاتے، نہرو کٹ ویسٹ کوٹ بھی ساتھ لی جاتیں۔

امی کو گوشت کا کچھ خاص شوق نہ تھا مگر فرمائش کر کے سیلانی کے سیخ کباب ضرور منگواتیں۔ کھجوریہ کے باغوں کے آم نانا ہمیشہ ہمارے لیے رکھا کرتے۔ امی اپنے باغوں کے نام یاد کر کے ان کے آم کھاتیں۔

انھی سبھی دوروں کے دوران ویزہ ہوا یا نہ ہوا بدایوں کی زیارتوں پر حاضری کے بغیر ہمارا کوئی ٹرپ مکمل نہ ہوتا۔ وہاں کبھی منت کے دھاگے باندھا کرتیں اور کبھی ابو کے ساتھ مل کرسفید موتیے کی چادر چڑھاتیں۔

بریلی سے خاص خریداری میں لالہ کاشی ناتھ سے بنوائے جھمکے، چرونجی، مکھانے، سانچی پان کی ڈلیہ اور کامدانی کے دوپٹوں کا بنڈل ضرور شامل ہوتا۔

سنہ 1999 کے دورے کے دوران امی نے زیادہ تر وقت نانی کے پلنگ پر گزارا کیونکہ وہ بہت بیمار تھیں، امی بس اپنی ماں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھیں۔

بریلی سے واپسی بھی بہت تکلیف دہ ہوتی۔ نانا کچھ دن ٹھیک سے کھاتے پیتے نہیں تھے۔ پھر وہی سٹیشن اور ہم امّی کے ساتھ۔ ایک بار پھر ٹرین کی سیٹی بجتی اور ہم دوبارہ ملاقات کا خواب لے کر روانہ ہو جاتے۔

زندگی دو ٹکڑوں میں تقسیم

بریلی سے واپسی بھی بہت تکلیف دہ ہوا کرتی۔ نانا نانی جیسے کچھ دن سے کھانا ہی چھوڑ دیتے اور امی بھی ان سے دور دور رہتیں۔ اور ہم مل کے سامان باندھا کرتے۔

پھر وہی سٹیشن اور امی کے ساتھ ہم۔ ایک بار پھر ٹرین کی سیٹی بجتی اور ہم آئندہ ملنے کا سپنا لیے چلے جاتے۔

ہندوستان کا فراق بھی انکی زندگی میں گھلا رہا اور کراچی شہر سے اپنائیت بھی انکی سہیلی بنی۔

وہ مزاج سے درویش تھیں، کبھی دونوں ملکوں کا مقابلہ نہ کیا اور خود کو پاکستانی کہتیں۔ ابو کے ساتھ بندھ کے پاکستان آگئیں اور اسی مٹی میں مل گئیں۔ چوبیس سال بیوہ رہیں لیکن زندگی سے کبھی قدم پیچھے نہ ہٹایا۔

کینسر جیسے مرض سے چار ماہ لڑنے کے بعد، اپریل 2019 میں ابو سے جا ملیں۔ آج بھی کراچی جاؤں تو امی کی قبر پہ جانا ایسا ہی ہے جیسے کاشی جانا۔