سوشل میڈیا پر طنز و تمسخر کے بعد انڈیا میں ویلنٹائن ڈے پر گائے کو گلے لگانے کی اپیل واپس

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

انڈیا میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حکومتی ادارے نے عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد ویلنٹائن ڈے پر گائے کو گلے لگانےکی اپیل واپس لے لی ہے۔

اینیمل ویلفیئر بورڈ کے ایک بیان کے مطابق متعلقہ حکام سے مشورے کے بعد ’کاؤ ہگ ڈے‘ منانے کی اپیل واپس لی گئی۔

حکومتی ادارے اینیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا نے گذشتہ دنوں شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے ’کاؤ ہگ ڈے‘ یعنی گائے کو گلے لگانے کے دن کے طور پر منائیں۔

اینیمل ویلفیئر بورڈ نے اس بیان میں کہا تھا کہ ’مغربی تہذیب کی چکا چوند میں لوگوں نے اپنی ہندو ثقافت کو بھلا دیا ہے۔‘

تاہم اس بیان کے بعد انڈیا میں سوشل میڈیا پر طنز اور تبصروں کا سلسلہ چل پڑا۔

’کاؤ ہگ ڈے‘ منانے کی وجہ کیا تھی؟

حکومتی ادارے نے اس بیان میں کہا تھا کہ ’ہم سبھی جانتے ہیں کہ گائے انڈین ثقافت اور دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔ ماں کی طرح پالنے پوسنے اور محبت کرنے کے سبب اسے گئو ماتا کہا جاتا ہے۔‘

اس بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’گائے کے بے پناہ فوائد کے مد نظر گائے کو گلے لگانے سے جذباتی آسودگی حاصل ہو گی اور اس سے انفرادی اور اجتماعی مسرت اور خوشی میں اضافہ ہو گا۔ اس لیے تمام لوگوں کو چاہیے کہ وہ گائے ماتا کی اہمیت کے مدنظر اور زندگی میں خوشی اور مثبت توانائی لانے کے لیے 14 فروری کو ( ویلنٹائن ڈے) کاؤ ہگ ڈے یعنی گائے کو گلےلگانے کے دن طور پر منائیں۔‘

انڈیا میں ویلینٹائن ڈے کی مقبولیت اور مخالفت

گذشتہ سالوں میں ویلینٹائن ڈے انڈیا کے نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہوا ہے۔

پورے ملک کے بازاروں میں کارڈ اور پیار کی علامت سمجھے جانے والے دل کی شکل کے غبارے اور کٹ آؤٹس فروری کا مہینہ آتے ہی ہر جگہ بکنے لگتے ہیں۔

14 فرروی کو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بڑی تعداد میں مالز، ریسٹورنٹس، پارکوں اور قدیم عمارتوں کے احاطوں میں بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ محبت کا ایک بڑا تہوار بن چکا تھا۔

لیکن پچھلے کچھ برسوں سے ہندو تنظیموں کی طرف سے اس کی شدت سے مخالفت کی جانے لگی۔

ان تنطیموں کے اراکین نے ناصرف اس کی مخالفت کی بلکہ کئی مقامات پر ان ریسٹورنٹس اور مالز میں نوجوانوں کو ہراساں بھی کیا۔

اتر پردیش اور بعض دوسری ریاستوں میں ’اینٹی رومیو‘ جیسے گروپ بنائے گئے جو نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر انھیں ہراساں کرتے تھے اور کئی بار مارپیٹ بھی ہوئی۔

پچھلے کچھ برسوں سے ویلنٹائن ڈے کو کسی اور دن کے طور پر منانے کی اپیل بھی کی جاتی رہی ہے۔

اینیمل بورڈ کی اپیل کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمان سومیدھا نند سرسوتی نے اس اعلان کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’گائے ہماری تہذیب کا ایک ورثہ ہے۔ گائے کو ویدوں میں ماں کہا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے بچے مغربی تہذ یب کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ میں مغرب کی مخالفت نہیں کرتا۔ ہمیں وہاں سے سائنس ٹیکنالوجی سبھی کچھ لینا چاہیے۔ لیکن ثقافتی نکتہ نظر سے ویلنٹائن ڈے جیسی چیزوں کو منانا مناسب نہیں ہے۔‘

’اسی لیے کہا گیا ہے کہ گئو ماتا کو اپنائیے۔ وہ ہمیں ماں کی طرح پیار دیتی ہے، وہ دودھ دیتی ہے، کھاد دیتی ہے، اس لیے گائے کو گلے لگانے کا فیصلہ صحیح ہے۔‘

سویڈن میں سیاسی امور کے پروفیسر اشوک سووین انڈیا کی دائیں بازو کی سیاست پر تبصرے کرتے ہیں اور مضامین بھی لکھتے رہے ہیں۔

ایک ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ویلنٹائن ڈے کی مخالفت سخت گیر ہندو تنظییمں ایک عرصے سے کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں یہ مغربی کلچر کا حصہ ہے اور اسے انڈین لوگوں کو نہیں منانا چاہیے۔ یہ نیا سال اور کرسمس منانے کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن ولینٹائن ڈے پر ان کی خاص توجہ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکومت کے ایک ادارے کی طرف سے گائے کو گلے لگانے کا جو مشورہ دیا گیا ہے وہ حیران کن ہے۔ اس کے پیچھے ایک سیاسی مقصد ہے۔ وہ نفرت پیدا کرنے کے لیے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ گائے ہندوؤں کے لیے مقدس ہے جب کہ مسلمان اور مسیحی اسے کھاتے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد گائے نفرت کی سیاست کا ایک اہم پہلو رہی ہے۔‘

ماضی میں ایک سرکرہ ہندو سادھو آشا رام باپو نے، جو ان دنوں ریپ کے جرم میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، ویلنٹائن ڈے کو ماں باپ کی پوجا کے دن کے طور پر منانے کی اپیل کی تھی۔

گائے کو گلے لگاؤ کی اپیل پر سوشل میڈیا ردعمل

ایک صارف نے ’ٹائٹینک‘ فلم کے مشہور منظر، جس میں لیونارڈر ڈی کیپریو اور کیٹ ونسلیٹ کو جہاز کے ڈیک پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلائے ہوئے دکھایا گیا ہے، کو بدل کر لیونارڈو کے ساتھ کیٹ کی جگہ ایک گائے کا سر لگا دیا۔

ارجن سنگھ ورما نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’کیا حکومت یہ بتانا چاہتی ہے کہ گائے ہماری گرل فرینڈ ہے؟ یہ بہت خراب بات ہے۔‘

ان کے جواب میں حنا محسن خان نے لکھا کہ ’گرل فرینڈ ہی نہیں، بوائے فرینڈ کو بھی گائے سمجھ لیا گیا ہے۔‘ ورما نے مزید لکھا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ حکومت چاہتی ہے کہ ہر شخص اکیلا رہے۔‘

ٹوئٹر پر ایاز نام کے ایک صارف نے ایک تصویر لگائی جس میں ایک مرد اور ایک عورت ایک گائے کے ساتھ جاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ اس تصویر کا عنوان ہے ’ویلنٹائن ڈے پر بجرنگ دل سے بچنے کی ترکیب۔‘

یہ کہنا مشکل ہے کہ اس اعلان کی منسوخی کے بعد انڈیا میں کتنے لوگ گائے کو گلے لگا کر ویلنٹائن ڈے منائیں گے۔ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ آئندہ ایک دو دن میں دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے ویلنٹائن ڈے کے خلاف بیانات جاری کیے جا سکتے ہیں۔