آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مورچوں، بنکرز کی تباہی اور امن معاہدے کے سرکاری اعلانات کے باوجود پاڑہ چنار کی پانچ لاکھ آبادی اب بھی محصور
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
راستوں کی بدستور بندش اور اشیائے ضروریہ کی قلت کے باعث پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجروں نے آج (15 اپریل) سے مکمل شٹر ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ اس اقدام پر اس لیے مجبور ہوئے ہیں کیونکہ امن معاہدوں کے اعلانات کے باوجود پاڑہ چنار کے راستے گذشتہ کئی مہینوں سے بند ہیں اور اشیائے تجارت شہر تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں جس کے باعث حالات کافی مخدوش ہیں۔
یاد رہے کہ لگ بھگ چھ ماہ قبل قبائل کے درمیان فرقہ وارانہ کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد سے پاڑہ چنار جانے والے تمام راستے بند ہیں۔ ماضی میں صوبائی حکومت کی جانب اِن راستوں کو کھولنے کے لیے کافی کوششیں کی گئیں اور قبائل کے درمیان امن معاہدوں کے اعلانات کیے گئے تاہم مقامی شہریوں کے مطابق صورتحال نارمل نہیں ہو پائی ہے۔
راستوں کی بندش کے باعث حکومت کی جانب سے شہریوں اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل کے لیے کانوائے تشکیل دیے تاہم ان پر بھی حملے ہوئے۔
اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے حالیہ کوشش گذشتہ ماہ کی گئی اور 29 مارچ کو مقامی اقوام کے درمیان ’امن تیگہ‘ نام سے ہونے والے معاہدے کا اعلان کیا گیا۔ ’امن تیگہ‘ کا مطلب امن کا پتھر ہے۔ یہ معاہدہ سُنی قبائل پر مبنی وتیزئی قوم اور شیعہ قبائل پر مبنی علیزئی قوم کے درمیان طے پایا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق اس معاہدے کے بعد توقع تھی کہ راستے کُھل جائیں گے، لوگوں کی مشکلات کم ہوں گی اور اس علاقے میں امن واپس لوٹ آئے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور راستے بدستور بند ہیں۔
بی بی سی نے اس حوالے سے بہت سے مقامی افراد سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے امن معاہدوں کے باوجود حالات امن کی جانب کیوں نہیں آ رہے ہیں۔
بیشتر لوگوں کا دعویٰ ہے کہ پاڑہ چنار کے راستوں کی تاحال بندش کی ایک بڑی وجہ تو قبائل کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، دوسرا صوبائی حکومت کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں کی کمی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ اقدامات کی ضرورت ہے جن میں علاقے میں تمام مورچوں کو مسمار کرنا، اضافی چوکیاں قائم کرنا، مذید اہلکاروں کی بھرتی کے علاوہ حالات کو معمول پر لانا ضروری ہے تاکہ پھر سے کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔
پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار شاہد کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاڑہ چنار میں حالات بدستور تشویشناک ہیں اور مقامی آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امن کے لیے کیے جانے والے کسی بھی معاہدے پر عمل نہیں ہو رہا۔ ’یہاں تک کہ ایمبولینس کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے مکمل امن کے قیام کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب تک ضلع کرم میں 900 کے لگ بھگ مورچے اور بنکرز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ اس نوعیت کی مزید کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ مقامی لوگوں کو غیر مسلح کرنے کی مہم بھی جاری ہے جبکہ علاقے میں مزید سکیورٹی پوسٹس قائم کی جا رہی ہیں۔ صوبائی ترجمان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں پولیس اہلکاروں کی مزید بھرتی جاری ہے جبکہ موجودہ اہلکاروں کی تربیت کی جا رہی ہے۔
انھوں نے بتایا ہے کہ ایک مرتبہ یہ تمام اقدامات مکمل کر لیے جائیں تو اس کے بعد راستہ عام ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
دوسری جانب کمشنر کوہاٹ ڈویژن معتصم باللہ نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر صورتحال میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے اور اس مرتبہ دیرپا امن قائم کیا جا سکے گا۔
تاہم بگن سے تعلق رکھنے والے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اگرچہ ان کے علاقے میں صورتحال تو نارمل ہے تاہم راستے بند ہیں۔ ان کے مطابق جو لوگ کشیدہ صورتحال کے باعث نقل مکانی کرکے ٹل یا دیگر علاقوں کی جانب چلے گئے تھے، انھیں اب تک واپس نہیں لایا جا سکا ہے۔
یاد رہے کہ پاڑہ چنار کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ گذشتہ چھ ماہ سے معطل ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اِس دورانیے میں بہت سے افراد بڑے ہسپتالوں میں طبی امداد کی غرض ے نہیں پہنچائے جا سکے جس کے باعث ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جبکہ پورے علاقے میں ادویات، خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی شدید قلت ہے۔
پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والے حاجی عابد حسین نے بتایا کہ وہ افراد جو مہینوں سے اپنے پیاروں کو دیکھنے کے منتظر ہیں انھیں سرکاری حکام چوکیوں پر روکتے ہیں اور واپس بھیج دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہ تو لوگ پاڑہ چنار سے نکل پا رہے اور نہ ہی دیگر علاقوں سے وہاں پہنچ پا رہے ہیں۔
مقامی صحافی علی افضل افضال کا کہنا ہے کہ علاقے میں ابتر صورتحال ہے جبکہ اس صورتحال کے خلاف مقامی پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا بھی کئی دنوں سے جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے طلبا کا قیمتی سال ضائع ہوا ہے۔