چینی پائلٹوں کو جنگی تربیت دینے کے الزام میں گرفتار پائلٹ کو امریکہ کے حوالے کرنے کی با ضابطہ درخواست

وقت اشاعت

امریکہ نے آسٹریلیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سابق امریکی مرین کو امریکہ کے حوالے کر دے جس نے چینی لڑاکا پائلٹوں کو تربیت دے کر اسلحے پر کنٹرول سے متعلق امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

سابق امریکی شہری ڈینیئل ڈوگن اکتوبر میں آسٹریلیا میں گرفتاری کے بعد سے حراست میں ہیں۔

ڈوگن کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوئی قانون نہیں توڑا اور ان کے وکیل کا موقف ہے کہ یہ الزامات سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔ آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک فضائیہ کے اہلکاروں کو اسی طرح کے منافع بخش معاہدے کرنے کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں۔

ڈوگن کو امریکہ میں ’فوجی تربیت‘ سے متعلق چار الزامات کا سامنا ہے جن کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک دہائی سے زیادہ پہلے جنوبی افریقہ میں ’ٹیسٹ فلائنگ اکیڈمی‘ میں چینی پائلٹوں کو تربیت فراہم کی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے رواں ہفتے کے اوائل میں ڈوگن پر عائد فرد جرم کے مندرجات کے بارے میں رپورٹ دی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے چین کو فوجی تربیت فراہم کرنے کے لیے امریکی حکومت سے اجازت نہیں لی تھی، حالانکہ امریکی محکمہ خارجہ نے انھیں 2008 میں ای میل کے ذریعے مطلع کیا تھا کہ انھیں غیر ملکی فضائیہ کو تربیت دینے کے لیے حکومت سے اجازت کی ضرورت ہے۔

سابق پائلٹ کو، جو اب آسٹریلوی شہری ہیں اور اپنی امریکی شہریت ترک کر چکے ہیں، دو ماہ قبل امریکہ کی درخواست پر نیو ساؤتھ ویلز کے شہر اورنج سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ڈوگن کے وکیل ڈینس میرالیس کا کہنا ہے کہ اگر انھیں امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے تو یہ ’انصاف سے انحراف‘ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کو حوالگی کی مخالفت کرنی چاہیے کیونکہ آسٹریلوی قانون میں ایسے الزامات سے متعلق کوئی قانون نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آسٹریلیا نے چین پر اسلحے کی پابندی نہیں لگائی، آسٹریلیا نے چین پر دوسری پابندیاں عائد نہیں کی، اس لیے حوالگی سے اس بنیاد پر انکار کر دینا چاہیے کہ وہ دہرے جرائم کے تقاضے پورے نہیں کرتی'۔

لیکن آسٹریلیا بھی اس روش پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔ آسٹریلوی وزیر دفاع نے گذشتہ ماہ، ان اطلاعات کے بعد کہ آسٹریلیا کے سابق فوجیوں کو تربیت فراہم کرنے کے لیے لالچ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، ملک کی دفاعی افواج میں رازداری کی پالیسیوں کا جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

رچرڈ مارلس نے کہا تھا، ’میں واضح کر دوں کہ آسٹریلیائی جو کسی بھی حیثیت میں حکومت کے لیے کام کرتے ہیں یا کام کرتے رہے ہیں اور جو قومی رازوں سے آشنا ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان رازوں کو اپنی نئی ملازمت سے الگ رکھیں۔‘

اکتوبر میں برطانیہ نے بھی ایک انٹیلی جنس الرٹ جاری کیا تھا جس میں سابق فوجی پائلٹوں کو چینی فوج کے لیے کام کرنے کے خلاف متنبہ کیا گیا تھا۔

میرالیس نے یہ بھی کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن میں دوران حراست ڈوگن کے ساتھ ’غیر انسانی‘ سلوک برتنے کے بارے میں شکایت درج کرائیں گے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ڈوگن کو طبی امداد نہیں دی جا رہی ہے۔

ڈوگن کا مقدمہ 20 دسمبر کو سڈنی کی ایک عدالت میں پیش ہوگا، جو آسٹریلوی حکومت کی حوالگی کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی آخری تاریخ سے پانچ دن پہلے ہے۔