چین میں 35 افراد کو گاڑی تلے کچلنے والا شخص ’طلاق کے بعد جائیداد کے تنازع پر ناخوش تھا‘

    • مصنف, سٹیفن میکڈونل، فرانسز ماؤ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

جنوبی چین میں ہونے والے ایک کار حملے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ملک میں کئی دہائیوں میں ہونے والے عوامی تشدد کا سب سے بدترین واقعہ ہے۔

پولیس کے مطابق چین کے شہر ژوہوئی میں ایک شخص نے سٹیڈیم میں اس وقت لوگوں پر کار چڑھا دی جب وہ ورزش کر رہے تھے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس واقعے میں 45 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق 62 سالہ فان اپنی طلاق کے معاملے پر ناخوش تھے۔ فان کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ سپورٹس سٹیڈیم سے فرار ہو رہے تھے تاہم وہ اس وقت کومہ میں ہیں اور اس کی وجہ وہ چوٹیں ہیں جو انھوں نے خود کو پہنچائیں۔

اس واقعے کے بعد چین میں خاصا غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ صدر شی جن پنگ نے مجرم کو ’سخت سزا‘ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

حکام نے اس واقعے میں مرنے والوں کی تفصیلات ابھی تک شیئر نہیں کی ہیں تاہم منگل کے روز بہت سے لوگوں نے مرنے والوں کے لیے اس سٹیڈیم کے باہر پھول رکھے۔

یہ سٹیڈیم مقامی افراد میں ورزش کے لیے خاصا مشہور ہے۔ عینی شاہدین نے چینی میڈیا کو بتایا کہ فان نے جان بوجھ کر لوگوں پر اپنی کار چڑھائی۔

ایک عینی شاہد چین نے بتایا کہ انھوں نے اپنے گروپ کے ساتھ چہل قدمی کا ایک راؤنڈ مکمل کر لیا تھا جب ایک کار تیزی سے ان کی طرف آئی۔

مقامی پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پتا چلتا ہے کہ اپنی طلاق کے بعد فان جائیداد کے ایک تنازعے کی وجہ سے غصے کا شکار تھے۔ وہ ابھی بھی کومہ میں ہیں اس لیے پولس نے ان سے تفتیش نہیں کی۔

یہ حملہ حالیہ عرصے کے دوران چین میں عوامی تشدد کی سب سے مہلک کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس سال فروری میں چین کے صوبہ شانڈونگ میں چاقو اور آتشیں اسلحے کے حملے سمیت متعدد ایسے واقعات کی اطلاع ملی، جن میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کو چینی حکام نے بہت زیادہ سینسر کیا تھا۔

اس کے علاوہ اکتوبر میں بیجنگ کے ایک سکول میں چاقو حملے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ ستمبر میں شنگھائی کی ایک سپر مارکیٹ میں ایک شخص نے چاقو کے وار سے تین افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

پیر کے روز سٹیڈیم میں ہونے والے اس کار حملے کے بارے میں آن لائن معلومات پہلے ہی محدود تھیں اور چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بہت سی ویڈیوز کو ہٹا بھی دیا گیا۔

لیکن سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گردش کرنے والی چند ویڈیوز میں بہت سے لوگوں کو زمین پر لیٹے دیکھا جا سکتا ہے جہاں طبی عملہ ان کی مدد کر رہا ہے۔

ژوہوئی میں یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا، جب شہر بھر میں سکیورٹی خاصی سخت ہے کیونکہ اس ہفتے وہاں چینی فوج کا ایک ایئر شو ہونے والا ہے۔ اس ایئرشو میں چین اپنے نئے جنگی جہازوں اور ڈرونز کی نمائش کرے گا۔

ژوہوئی کے اس سٹیڈیم میں ہونے والے اس واقعے کی کوریج کے لیے جب بی بی سی کی ٹیم وہاں پہنچی تو انھیں ہراساں کیا گیا اور ویڈیوز بنانے سے روکا گیا۔

بی بی سی کی ٹیم وہاں پہنچی تو سٹیڈیم کے باہر بہت سے لوگ اس واقعے کے بعد کے مناظر دیکھنے کے لیے موجود تھے لیکن وہاں درجن بھر لوگ ایسے بھی تھے جن کی توجہ کا مرکز بی بی سی کی ٹیم تھی۔

ایک خاتون نے اپنے ساتھیوں کو زور زور سے بتایا ’دیکھو، غیر ملکی، غیر ملکی۔‘ اس خاتون کے ساتھ موجود مرد نے ہماری رپورٹنگ میں خلل ڈالتے ہوئے ہمیں پکڑنے کی کوشش کی۔

چین میں اکثر جب اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں توکمیونسٹ پارٹی کے مقامی اہلکار ایسے گروپس کو منظم کرتے ہیں جو غیر ملکی صحافیوں کو نشانہ بنانے اور انھیں کوریج سے روکنے کا کام کرتے ہیں۔

چین کے سابق وزیر اعظم لی کیانگ کی وفات کے بعد ایسے ہی چند گروپس کو ان کے پرانے خاندانی گھر کے باہر بھیج دیا گیا۔ جو بھی صحافی وہاں کوریج کے لیے پہنچتا، یہ لوگ اسے گھیر لیتے، چیخ و پکار کرتے جبکہ دھکے اور گالیاں بھی دیتے۔

گذشتہ مہینے بی بی سی کی ٹیم شنگھائی کے اس شاپنگ مال پہنچی جہاں ایک شخص نے چاقو کے وار کر کے لوگوں کو مار دیا تھا۔

اس واقعے کے کچھ ہی گھنٹے بعد اس سارے مقام کی مکمل طور پر صفائی کر دی گئی۔ اگلے ہی روز یہ مال دوبارہ کھول دیا گیا اور وہاں سب کچھ نارمل دکھای دیا: کرائم سین کی پٹی یا مرنے والوں کے لیے کوئی پھول وہاں نظر نہ آئے۔

چین میں حکام بعض اوقات چاہتے ہیں کہ یہ بری چیزیں جلد از جلد دور ہو جائیں۔

ژوہوئی سٹیڈیم میں ہمارے تصادم کے چند گھنٹے بعد ہی پولیس کی بھاری نفری صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے لیے پہنچ گئی۔

مقامی افراد کا ہجوم بھی مرنے والوں کی یاد میں موم بتیاں جلانے وہاں پہنچا اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں رضا کاروں کو ہسپتالوں میں خون دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

چین کے صدر شی نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ معاشرتی مسائل پر کام کریں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے۔

لیکن چین ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ کس چیز نے کسی شخص کو ایسے خوفناک عمل کی طرف دھکیل دیا۔