آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے اگنی پرائم کا ’نائٹ ٹرائل‘: 11 ہزار کلوگرام وزن والا یہ بیلسٹک میزائل کن صلاحیتوں کا حامل ہے؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
انڈیا میں دفاعی تحقیق کے ادارے ’ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمینٹ آرگنائزیشن‘ (ڈی آر ڈی او) نے بدھ کی رات جوہری مواد لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے ’اگنی پرائم‘ بیلسٹک میزائل کا ’کامیاب‘ تجربہ کیا۔ یہ تجربہ اڑیسہ کے ساحل پر واقع ’اے پی جے عبداکلام‘ تجربہ گاہ سے کیا گیا۔
’ڈیفینس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمینٹ آرگنائزیشن‘ کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائل کا رات گئے کیے جانے والا یہ تجربہ پوری طرح کامیاب رہا ہے اور اس نے تمام مطلوبہ اہداف حاصل کیے ہیں۔
اس تجربے کے بعد انڈین وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’اس تجربے سے سبھی مطلوبہ مقاصد حاصل کیے گئے ہیں۔ مختلف مقامات پر واقع رینج سینسر اور ہدف کے اطراف تعینات کیے گئے دو بحری جہازوں سے موصول ہونے والے اعداد شمار کی مدد سے اس میزائل کے صحیح نشانے پر وار کرنے کی معتبریت کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘
انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’اس میزائل کے کامیاب تجربے اور فوج کے اسلحہ خانے میں اسے شامل کیے جانے سے ملک کی مسلح افواج کی عسکری صلاحیت میں زبردست اضافہ ہو گا۔‘
یاد رہے کہ ’اگنی پرائم‘ اگنی میزائل سیریز کا چھٹا میزائل ہے۔ یہ درمیانی دوری کا میزائل ہے جو 1200 کلومیٹر سے 2000 کلومیٹر کی دوری تک وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق اس کا وزن 11 ہزار کلوگرام اور لمبائی تقریباً ساڑھے دس میٹر ہے۔
انڈین دفاعی ماہرین کے مطابق یہ جوہری مواد سے وار کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک جدید نوعیت کا میزائل ہے۔
بدھ کی رات کیا گیا یہ ’اگنی پرائم‘ کا پانچواں ٹیسٹ تھا۔ اس کا پہلا تجربہ جون 2021، دوسرا دسمبر 2021 اور تیسرا اکتوبر 2022 میں کیا گیا تھا تاہم یہ سبھی تجربے دن کے اوقات میں کیے گئے تھے۔ رات کے اوقات میں اگنی پرائم کا یہ دوسرا تجربہ تھا، پہلا تجربہ جون 2023 میں کیا گیا تھا۔
دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نائٹ ٹیسٹ اس نوعیت کے میزائل کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ دن اور رات کے ماحول میں کافی فرق ہوتا ہے۔ رات کے اوقات میں ماحولیاتی کنڈیشنز جیسا کہ روشنی، ہوا وغیرہ دن کی نسبت بہت مختلف ہوتے ہیں۔ کسی بھی میزائل کی جانچ کے لیے دن اور رات دونوں کے اوقات میں اس کا تجربہ بہت ضروری ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگنی پرائم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے راہل بیدی کا کہنا تھا کہ زمین سے زمین پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا یہ بہت اعلیٰ میعار کا بیلسٹک میزائل ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس میزائل کے ہدف کو درستگی سے مار کرنے میں غلطی کا امکان (سرکولر ایرر آف پروبیبلٹی) لگ بھگ دس میٹر ہے (یعنی یہ اپنے ہدف سے دس میٹر اِدھر سے اُدھر چوک سکتا ہے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے سے اعتبار سے یہ میزائل بہت ہی بہتر صلاحیت کا حامل ہے۔‘
انڈیا میں دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ اگنی بیلسٹک میزائل سیریز کو ’نیوکلیئر ڈیٹیرنٹ‘ کے نقطہ نظر سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔
راہل بیدی کا کہنا ہے کہ ’ڈیفینس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمینٹ آرگنائزیشن نے دوسرے ہتھیاروں کے مقابلے میں میزائل ٹیکنالوجی میں گذشتہ عرصے میں کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ میزائل مقامی ٹیکنالوجی کی مدد سے بنایا گیا۔
انڈیا کے دفاعی تحقیق کے ادارے نے اگنی سیریز کے علاوہ آکاش، پرتھوی اور ترشول جیسے میزائل بھی بنائے ہیں۔ روس کے اشتراک سے ’برہموس‘ نام کا بھی ایک میزائل بھی مقامی طور پر بنایا گیا، جو انڈیا اب دوسرے ملکوں کو بھی برآمد کر رہا ہے۔
راہل بیدی کا کہنا ہے کہ ’مصنوعی ذہانت کے اس دور میں بھی ان روایتی میزائلوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ میزائلوں کے حوالے سے انڈیا اور پاکستان کا موازنہ کریں تو صورتحال تقریباً برابر ہے لیکن اگر چین کی بات کریں تو وہ انڈیا سے میزائل ٹیکنالوجی میں کہیں آگے ہے۔ دستیاب میزائلوں کے معیار، رینج اور تعداد میں چین انڈیا سے بہت آگے ہے۔‘
یاد رہے کہ انڈیا بڑے پیمانے پر اپنی فوج کی جدید کاری میں مصروف ہے۔ اس عمل میں اب یہ کوشش ہو رہی ہے کہ دفاعی ساز و سامان اور ہتھیار مقامی ٹیکنالوجی کی مدد سے ملک کے اندر ہی تیار کیے جائیں۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے دفاعی شعبے کو پرائیوٹ سیکٹر کے لیے بھی کھول دیا گیا ہے۔
گذشتہ برس انڈیا نے 21 ہزار کروڑ روپے مالیت کا دفاعی ساز و سامان دیگر ممالک کو برآمد بھی کیا تھا جس میں انڈیا میں مقامی طور پر طیار کیے گئے لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔