انڈیا میں پیزا ٹاپنگ پر ٹیکس، آخر معاملہ کیا ہے؟

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
  • وقت اشاعت

پیزا کو مزیدار بنانے والی ٹاپنگ کا صحیح فارمولا حاصل کرنا ایک چیلنج ہوسکتا ہے کیونکہ اگر ٹاپنگز زیادہ ہو جائیں تو پیزا کے نان میں نمی آ جاتی ہے اور غلط مرکب ہو تو ذائقہ متاثر ہو سکتا ہے۔

لیکن اگست میں پیزا ٹاپنگز بنانے والی ایک انڈین کمپنی کو عدالت میں ایک مختلف قسم کے چیلنج کا سامنا تھا۔ یہ معاملہ ٹاپنگ کے ذائقے کا نہیں بلکہ گڈز اینڈ سروسز ٹیکس یعنی جی ایس ٹی کی شرح سے متعلق تھا۔

خیال رہے کہ جی ایس ٹی ملک گیر سطح پر پانچ سال پہلے متعارف کرایا گیا تھا اور اس کی وجہ سے دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کو سالانہ 17 ارب امریکی ڈالر کی آمدن ہوتی ہے جبکہ اس نئے محصول کے نظام نے ٹیکس کی آمدن میں اضافہ کیا ہے۔

کھیرا ٹریڈنگ کمپنی نے عدالت میں یہ مؤقف پیش کیا کہ ان کی موزریلا (بھینس کے دودھ سے بنائی جانے والی ایک قسم کی پنیر) ٹاپنگ کی درجہ بندی پنیر کے طور پر کی جانی چاہیے کیونکہ پنیر پر نسبتاً کم یعنی 12 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹاپنگ میں پنیر اور دودھ کے مادے کا ایک تہائی سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن دارالحکومت دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ کی ایک عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ٹاپنگ میں استعمال ہونے والے پنیر کو صحیح معنوں میں صرف پنیر کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ٹاپنگز میں سبزیوں کا تیل ہوتا ہے اور صحیح معنوں میں یہ ٹاپنگ کے اجزا کا 22 فیصد ہوتا ہے۔ فرم نے کہا کہ تیل اس کے ٹیکسچر یا ساخت میں مدد کرتا ہے اور یہ پیزا میں ذائقے کو بڑھاتا ہے اور سستا بھی ہوتا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے سبزیوں کا تیل پنیر کا جزو نہیں ہے۔ اس لیے ان کی ٹاپنگز کو پنیر کے طور پر شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بجائے اسے ’کھانے کی تیاری‘ والا مادہ کہا جائے گا اور اس پر 18 فیصد سے زیادہ ٹیکس لگایا جائے گا۔ کمپنی یہ مقدمہ ہار گئی۔

اس طرح کی عدالتی لڑائیاں ٹیکس ماہرین کو یہ باور کرانے پر مجبور کرتی ہیں کہ انڈیا کا جی ایس ٹی نظام بہت پیچیدہ ہے۔ یہ نیا ٹیکس 29 ریاستوں میں لیے جانے والے مختلف قسم کے ٹیکسوں کی جگہ متعارف کرایا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ مختلف شرح 5، 12، 18، اور 28 فیصد اور غیر پیک شدہ کھانے پر صفر ٹیکس کے ساتھ تقریباً 2,000 اشیا اور خدمات پر عائد یہ ٹیکس کا نظام بہت بوجھل ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ پیٹرول، ڈیزل، بجلی اور رئیل سٹیٹ وغیرہ جی ایس ٹی کے تحت نہیں آتے ہیں۔

ایک کنسلٹنگ کمپنی پرائس واٹر ہاؤس کوپرز میں پارٹنر اور جی ایس ٹی اور بالواسطہ ٹیکس کی ماہر انیتا رستوگی کہتی ہیں کہ ’اس کی وجہ سے کسی پروڈکٹ یا سروس کے مخصوص کوڈز کے ساتھ ساتھ ان کی شرح کی بنیاد پر درجہ بندی سے الجھن پیدا ہو گئی ہے۔ چنانچہ جی ایس ٹی کے متعارف کرانے سے لے کر اب تک [عدالتی] فیصلوں کی بھرمار رہی ہے۔‘

جب بات انڈین فوڈ انڈسٹری کی ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ٹیکس کے اس نظام میں گرہیں پڑ جاتی ہیں۔ ستمبر میں ایک عدالت نے 20 ماہ تک جاری رہنے والے پراٹھے کے طویل کیس پر فیصلہ سنایا کیونکہ اس پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگتا ہے جبکہ روٹی پر پانچ فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے حالانکہ دونوں کا بنیادی جزو ایک ہی ہوتا ہے۔

گجرات میں قائم ایک معروف کمپنی واڈیلال انڈسٹریز نے گذشتہ سال جون میں عدالت سے رجوع کیا کہ ان کے پیک کیے ہوئے پراٹھے پر اتنا ٹیکس کیوں لگایا جا رہا ہے۔

وہ آٹھ قسم کے پیک پراٹھے فراہم کرتے ہیں جن میں سے کجھ میں سبزیاں بھی ہوتی ہیں۔ ان کا یہ استدلال تھا کہ ان کے پراٹھوں پر روٹی کا ٹیکس ہی لگنا چاہیے کیونکہ دونوں کا بنیادی مادہ گندم کا آٹا ہی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عدالت نے کہا کہ نہیں۔ اگرچہ جج نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پیک پراٹھوں میں بنیادی طور پر گندم کا آٹا ہوتا ہے لیکن یہاں ایک فرق ہے کہ اس میں پانی، سبزیوں کا تیل، نمک، سبزیاں اور مولی جیسے ’دوسرے اجزا‘ بھی ہوتے ہیں۔

درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ’اپیل کنندہ کی طرف سے فراہم کردہ پراٹھے روٹی سے مختلف ہیں۔‘

اس قسم کے سر کھجانے والے اور بھی فیصلے ہیں۔

ایک عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ پارلرز کے ذریعے فروخت ہونے والی آئس کریم پر ریستورانوں میں فروخت ہونے والی آئس کریم سے زیادہ (18فیصد) ٹیکس لگیں گے کیونکہ وہ آئس کریم بنانے/تیار کرنے کے بجائے پہلے سے تیار کردہ آئس کریم فروخت کرتے ہیں۔ پارلر آئس کریم کو ’خدمت کے طور پر نہیں بلکہ ایک اچھی چیز کے طور پر فروخت کرتے ہیں، چاہے سپلائی میں سروس کے کچھ اجزاء بھی کیوں نہ ہوں۔‘

پھر گجرات میں ایک معاملہ سامنے آیا جس میں ’فرائیمز‘ یا نمکین خوراک بنانے والی کمپنی شامل تھی۔

فرائیمز آلو اور ساگو سے بنا سنیک فوڈ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مصنوعات کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے جس طرح پاپڑ کو قرار دیا گیا ہے لیکن عدالت نے کہا کہ فرائیمز تیار شدہ حالت میں ہوتے ہیں جبکہ پاپڑ کو کھانے سے پہلے پکانا پڑتا ہے۔

جج نے کہا کہ ’دونوں مصنوعات مختلف ہیں اور ان کی انفرادی شناخت ہے۔‘ اس فیصلے کے بعد سے فرائیمز یا نمکین یعنی چپس پر 18 فیصد ٹیکس لگنا جاری ہے۔

ایک فلیورڈ دودھ بنانے والے کمپنی اس شکایت کے ساتھ عدالت پہنچی کہ ان کی تیار کردہ مشروبات پر 12 فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے جبکہ دودھ کو ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ ان کی مصنوعات میں ’92 فیصد دودھ، اور صرف 8 فیصد شکر‘ شامل ہے۔ لیکن عدالت نے کہا کہ ذائقہ دار دودھ قوانین میں ’دودھ کی تعریف‘ کے تحت نہیں آتا ہے اور اس لیے وہ ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں اور پھر اس بات پر تنازع پیدا ہوا کہ کیا پکنے کے لیے تیار ڈوسے (ایک مقبول ناشتہ) اور اڈلی ( ابلے چاول والے کیک) پر اس کے بیٹر (گھول) سے زیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے حل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مختلف شرحوں کو آسان اور ایک کم شرح میں سمیٹ دیا جائے۔ (1995 کے بعد جی ایس ٹی متعارف کرانے والے ممالک میں سے 80 فیصد نے بالآخر تمام چیزوں پر ایک شرح کے ٹیکس کا انتخاب کیا ہے۔)

ماہرین اقتصادیات وجے کیلکر اور اجے شاہ کا کہنا ہے کہ ’مختلف پریشر گروپس [انڈیا میں] ایک صنعت یا دوسری صنعت پر زیادہ یا کم ٹیکس لگانے کے لیے لابی کرتے ہیں اور یہ معیشت کے وسائل کی تقسیم کو بگاڑ دیتا ہے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ حکومت اشیا اور خدمات کی ایک بڑی خریدار ہے اس لیے ایک اور کم شرح والا ٹیکس یا جی ایس ٹی ’حکومت کی تمام سطحوں پر آنے والی لاگت میں بچت کا باعث ہوگا۔‘

کم اور واحد شرح والی درجہ بندی سے تنازعات کو ختم کرنے، ٹیکس بچانے کے لیے چوری کو کم کرنے اور تعمیل کے اخراجات کو کم کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

عالمی اکاؤنٹنگ اور کنسلٹنسی کمپنی ای وائی میں پارٹنر اور انڈیا میں بالواسطہ ٹیکس و خدمات کے ماہر ادے پمپریکر کہتے ہیں کہ ’جس لمحے آپ شرحوں کو اکٹھا کریں گے یا کم کریں گے، درجہ بندی کے تنازعات کم ہو جائیں گے لیکن انڈیا جیسے ملک میں جہاں آمدنی میں بڑا فرق ہے وہاں ایک ہی قسم کا ٹیکس یا دو قسم کے ٹیکس متعارف کرانے سے غریبوں پر ٹیکس کا بڑا بوجھ ڈالنے کا خطرہ موجود ہے۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار جی ایس ٹی کو ’اچھا اور آسان ٹیکس‘ قرار دیا تھا لیکن واضح طور پر یہ مکمل طور پر اس پر پورا نہیں اترا۔