بازاروں، شادی ہالز کی جلد بندش: کیا یہ نمائشی اقدامات ہیں یا اِن کا کچھ فائدہ بھی ہو گا؟

    • مصنف, بلال کریم مغل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے منگل کو توانائی کی بچت سمیت کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے جن کا مقصد حکومت کے نزدیک درآمدی بل میں کمی کرنا ہے۔ 

حکومت کی جانب سے بازار رات ساڑھے آٹھ بجے اور شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مارکیٹ میں موجود غیر مؤثر پنکھوں اور پرانی طرز کے فلامینٹ بلب کی وجہ سے جو بجلی ضائع ہو رہی ہے اس کا سدِ باب کیا جائے گا۔ 

اس کے علاوہ گیزرز کو گیس کی بچت کے لیے مؤثر بنانے، ملک بھر میں ای بائیکس متعارف کروانے سمیت دیگر اقدامات بھی حکومت کے اعلان کردہ منصوبے میں شامل ہیں۔ 

تاہم اقتصادی شعبے سے وابستہ ماہرین کے نزدیک ان میں سے بہت سے اقدامات وہ ہیں جن کا ہر چند برس بعد اعلان تو کیا جاتا ہے مگر اُن پر زیادہ عرصے عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ 

چند ماہرین کے نزدیک اس نوعیت کے اقدامات کا اعلان کرنا احسن اقدام تو ضرور ہے مگر یہ سب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ایک بڑے بحران کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جو کہ درحقیقت ادائیگیوں کے توازن کا بحران ہے۔ 

حکومت نے کن اقدامات کا اعلان کیا ہے؟ 

  • شادی ہالز کی بندش رات 10 بجے 
  • بازاروں کی بندش رات ساڑھے آٹھ بجے 
  • غیر مؤثر پنکھوں کی پیداوار کی بندش 
  • غیر مؤثر بلبز کی پیداوار پر پابندی 
  • گیزرز میں کونیکل بیفلز کی تنصیب 
  • 50 فیصد سٹریٹ لائٹس کا استعمال 
  • ای بائیکس کا متعارف کروایا جانا 
  • دفاتر کے بجائے گھروں سے کام کرنا (یہ تجویز فی الحال زیرِ غور ہے) 

بازاروں اور شادی ہالز کی جلد بندش کا اعلان ہر حکومت کی جانب سے کچھ عرصے بعد کیا جاتا ہے تاہم اس پر عمل شاید ہی کبھی ہوا ہو۔ شادی ہالز کی بات کی جائے تو وقتِ مقررہ پر پولیس موبائلز انھیں بند کروانے کے لیے پہنچ تو جاتی ہیں مگر عام طور پر دیکھا یہ جاتا ہے کہ سامنے کی روشنیاں بند کر کے ’سامان سمیٹنے اور مہمانوں کو رخصت کرنے‘ کے نام پر پھر بھی ایونٹ کو مختص وقت کے بعد طول دے لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بندش بھی اپنا مقصد کھو بیٹھتی ہے۔ 

کاروبار اور شادی ہالز کے شعبے سے وابستہ لوگوں کا الزام ہے کہ جلد بندش کرنے کے اقدامات سے پولیس میں موجود چند عناصر کو موقع ملتا ہے کہ وہ ذاتی مالی فائدے کے بدلے ان کو دیر تک کام جاری رکھنے دیں۔ 

بازاروں کی جلد بندش نقصاندہ؟

حکومت کی جانب سے بازاروں کی رات ساڑھے آٹھ بجے بندش کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کی تاجروں سے بات ہوئی ہے اور تاجر اس بات پر متفق ہیں۔ تاہم آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اُنھیں نہیں علم کہ کسی تاجر نے اس حکومتی فیصلے پر ’اتفاق‘ کیا ہے۔ 

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ کچھ روز پہلے ان کی سندھ حکومت کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی جس میں اُنھوں نے بازار نو سے 10 بجے کے درمیان بند کرنے کی تجویز دی تھی تاہم اس کے بعد اُنھیں ساڑھے آٹھ بجے مارکیٹس بند کرنے کے اس حتمی فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

دوسری طرف آل پاکستان انجمنِ تاجران کے چیئرمین نعیم میر نے کہا ہے کہ کاروباری اوقاتِ کار کے تعین کا اعلان ان کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے اور وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 

اپنے ایک بیان میں ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ بیوروکریسی کے لیے مفت پیٹرول اور مفت بجلی کے یونٹس کا خاتمہ کیا جائے۔ 

لیکن تاجروں کو اتنی جلدی مارکیٹیں بند کرنے سے مسئلہ کیا ہے، اس پر عتیق میر نے کہا کہ کراچی جیسے شہر میں بازاروں میں سب سے زیادہ دباؤ آٹھ سے 10 بجے کے درمیان ہوتا ہے جب لوگ اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر بازار کا رُخ کرتے ہیں، اس موقع پر بازار بند کرنے سے تاجروں کو کاروبار میں نقصان ہو گا جو پہلے ہی بڑھتی قیمتوں اور دیگر اخراجات کی وجہ سے پریشان ہیں۔ 

اُنھوں نے کہا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ بازار رات ایک دو بجے تک نہیں کھلے ہونے چاہییں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے آٹھ بجے بند کر دینے سے ان افراد کا روزگار بھی متاثر ہو گا جو دن میں ایک جگہ اور شام میں دوسری جگہ کام کرتے ہیں، کیونکہ کام کے کم اوقات کی وجہ سے ان کی دوسری ملازمتوں کو نقصان پہنچے گا۔ 

یہ تو ہوا تاجروں کا مؤقف۔ ماہرینِ معیشت سمجھتے ہیں کہ حکومت کے اقدامات ان بنیادی مسائل سے نظریں چرانے کے مترادف ہیں جو اس وقت پاکستان کی معیشت کو لاحق ہیں جبکہ اعلان کردہ اقدامات کا بھی کوئی فوری نتیجہ نظر نہیں آئے گا اور کچھ ہی عرصے میں انھیں بھلا دیے جانے کا خدشہ موجود ہے۔ 

’حکومتی اقدامات سے معیشت سکڑے گی‘

ماہرِ اقتصادیات عمار حبیب خان کہتے ہیں کہ سردیوں میں جب ویسے ہی بجلی کی کھپت کم ہے تو ان اعلان کردہ اقدامات کا وہ فائدہ شاید نظر نہ آئے جس کی حکومت توقع کر رہی ہے۔ 

بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ کاروبار جلد بند کروانے کی صلاحیت حکومت کے پاس نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو یہ اس مسئلے کا واحد حل نہیں ہے۔ 

عمار حبیب خان نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسے نہیں ہوتا کہ بازار دن لیٹ کُھلیں اور پھر رات گئے تک کھلے رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی حکم کے نفاذ کے ساتھ لوگوں کے رویوں میں بدلاؤ بھی ضروری ہے کہ بازاروں میں کام صبح سویرے شروع ہو۔ 

ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے درآمدی بل میں کمی کے جس اقدام کا اعلان کیا گیا ہے وہ معیشت کو سکیڑنے کے مترادف ہے کیونکہ اس وقت ملک میں ڈالرز کی کمی ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔ 

عمار حبیب خان نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ چند مہینوں میں پاکستان میں ڈیزل کی کھپت میں کمی دیکھی گئی ہے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ معیشت سست روی کی شکار ہے، درآمدات کم ہو رہی ہیں کیونکہ ایل سیز نہیں کھل رہیں، جب سامان نہیں آ رہا تو وہ ٹرانسپورٹ بھی نہیں ہو رہا اس لیے ڈیزل بھی اتنا استعمال نہیں ہو رہا۔ 

یہ بھی پڑھیے

پنکھوں، بلبوں اور گیزروں کے حوالے سے اعلان کیے گئے اقدامات پر عمار حبیب خان نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ یہ آلات بہت زیادہ توانائی کا استعمال کرتے ہیں مگر انھیں فوری طور پر روکا نہیں جا سکتا بلکہ یہ کئی برسوں پر محیط مرحلہ ہو گا جس کے تحت کم توانائی استعمال کرنے والی چیزوں کی پیداوار بڑھانا، ان کی مارکیٹ پیدا کرنا، پرانی طرز کے آلات کی بندش وغیرہ شامل ہیں کیونکہ لامحالہ گھروں میں لگے آلات تب تک چلتے رہیں گے جب تک کہ خراب نہیں ہو جاتے۔ 

اُنھوں نے اس کی مثال یوں دی کہ ایک زمانے میں ہر گھر میں متعدد ٹیوب لائٹس ہوا کرتی تھیں مگر اب یہ انرجی سیورز اور ایل ای ڈی سے بدلتی جا رہی ہیں لیکن اس میں کافی عرصہ لگا ہے اور اب سے لے کر چار یا پانچ برسوں میں مکمل عملدرآمد کے ساتھ اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ 

کیا یہ سب عارضی اور نمائشی اقدامات ہیں؟ 

معاشی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت جس جانب توجہ نہیں دے رہی وہ ادائیگیوں کے توازن کا بحران ہے جو سر اٹھائے کھڑا ہے۔ 

معاشی امور کے ماہر صحافی خرم حسین سمجھتے ہیں کہ اگر ماضی کسی چیز کا اشارہ ہے تو وہ یہ کہ ان اقدامات پر کوئی خاص عمل نہیں ہو گا اور کچھ عرصے میں انھیں بھلا دیا جائے گا۔ 

تاہم وہ جس چیز کی جانب اشارہ کرتے ہیں وہ یہ کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو اپنی ضروری درآمدات کے لیے بھی ڈالرز کی کمی ہو گی۔ 

واضح رہے کہ 23 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے تک پاکستان کے کُل زرِ مبادلہ کے ذخائر 11.7 ارب ڈالر تھے جس میں سے 5.8 ارب ڈالر سٹیٹ بینک کے پاس اور 5.8 ارب ڈالر نجی بینکوں کے پاس ہیں۔ زرِ مبادلہ کے یہ ذخائر تقریباً ایک مہینے کی درآمدات کے برابر ہے۔

خرم حسین نے کہا کہ حل صرف یہ ہے کہ واپس آئی ایم ایف پروگرام میں جایا جائے اور ان سے طے شدہ شرائط پر عمل کیا جائے۔ 

واضح رہے کہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے ریویو پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اختلافات کی وجہ سے 1.1 ارب ڈالر کی قسط رکی ہوئی ہے حالانکہ یہ نظر ثانی نومبر میں ہی مکمل ہو جانی چاہیے تھی۔ 

اس کے علاوہ کئی دیگر مالیاتی اداروں اور ممالک نے پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں کو آئی ایم ایف پروگرام سے منسلک کر رکھا ہے۔ 

یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب پاکستان کو جون 2023 تک غیر ملکی ادائیگیوں کی مد میں 30 ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ 

خرم حسین نے کہا کہ درآمدات کے لیے ناکافی رقم کی وجہ سے ضروری درآمدات مثلاً ایندھن، دواؤں اور کئی طرح کی غذائی اشیا خریدنا مشکل تر ہوتا جائے گا، جیسا کہ سری لنکا کے معاملے میں کچھ عرصے قبل دیکھا گیا ہے۔ 

اُنھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے متبادل ضرور موجود ہوں گے لیکن پاکستان کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے علاوہ اور کوئی قابلِ عمل اقدام ایسا نہیں ہے جو اس وقت ملک کو بحران سے نکل سکے۔