آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اترپردیش میں مسلمان میاں، بیوی کو ڈنڈوں اور سلاخوں سے پیٹ کر قتل کرنے کا معاملہ کیوں پیش آیا؟
- مصنف, اننت جھنانے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، لکھنؤ
- وقت اشاعت
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے سیتا پور ضلع کے راجے پور گاؤں میں جمعے کو ایک مسلم جوڑے کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دینے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ دو خاندانوں کے درمیان آپسی جھگڑے کا معاملہ ہے۔ قتل ہونے والے میاں بیوی (عباس اور قمرالنسا) کی عمریں 50 سال سے زائد بتائی جاتی ہیں۔
پولیس نے اب تک اس معاملے میں تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
یہ واقعہ جمعے کی شام تقریباً 5 بجے پیش آیا۔ عباس اور قمرالنسا کی بیٹی نے پولیس کو بتایا کہ محلے میں رہنے والے شیلیندر جیسوال کے اہلخانہ نے لوہے کی سلاخوں اور ڈنڈوں سے مار مار کر اس کے والدین کو قتل کردیا۔
نابالغ بیٹی نے پولیس اطلاع دی
قتل کے بعد عباس اور قمرالنسا کی نابالغ بیٹی نے اپنی دو چھوٹی بہنوں کے ہمراہ گھر سے بھاگ کر جان بچائی۔
جب وہ میڈیا کو اس واقعے کے بارے میں بتا رہی تھیں تو وہ رو رہی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اماں ابا پنکھا بدلنے گئے تھے اور وہ واپس آ کر گھر کے باہر بیٹھے تھے کہ پڑوس میں رہنے والے شیلیندر جیسوال آ گئے۔‘
مقتول عباس کی بیٹی کے مطابق ’کالیا (شیلندر جیسوال)، رام پال اور پلو نے (ان کے والد کو) مار ڈالا۔ ہمارے بھائی کی وجہ سے ہماری پرانی دشمنی ہے۔ وہ پہلے آئے اور لڑنے لگے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عباس کی بیٹی نے جھگڑے کے بعد ہونے والے حملے کے بارے میں بتایا کہ 'پھر وہ بیلچہ لے کر آئے، ہمیں لوہے سے مارا، لاٹھیوں سے مارا، جب وہ ہمیں مارنے آئے تو ہم بھاگ نکلے۔'
قتل کا مقدمہ درج
پولیس نے عباس کی بیٹی کی تحریر پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ’رامپال جیسوال، ان کے بیٹے شیلیندر، رامپال کی بیوی رامپتی، رامپال کے داماد پلو اور امرناتھ شام کے وقت چار سے پانچ کے درمیان بیلچہ، لاٹھی اور راڈ لے کر عباس کے گھر آئے اور پرانی دشمنی کی بنا پر عباس اور قمرالنساء کو پیٹنے لگے۔'
ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ’بیٹی نے شور مچایا لیکن کوئی انھیں بچانے نہیں آیا‘ وہ جان بچا کر بھاگی اور ملزمان نے عباس اور قمرالنساء کو قتل کرکے لاشیں موقع پر ہی چھوڑ دیں۔'
دشمنی کی وجہ
سیتا پور کے ایس پی چکریش مشرا نے کہا کہ انھیں یہ 'معلوم ہوا ہے کہ دونوں خاندانوں کے درمیان کافی عرصے سے تنازع چل رہا تھا۔ مقتول جوڑے کا بیٹا شوکت ملزم کی لڑکی کے ساتھ فرار ہو گیا تھا۔ اس معاملے میں بھی ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور لڑکے کو چارج شیٹ کی بنیاد پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔'
پولیس نے عباس اور اس کی بیوی قمرالنسا کے قتل کی ایف آئی آر میں رامپال جیسوال، اس کے بیٹے شیلیندر، رامپال کی بیوی رامپتی، رامپال کے داماد پلو اور امرناتھ کو نامزد کیا ہے۔
چکریش مشرا بتاتے ہیں: 'ابھی دو دن پہلے ہی ان کا لڑکا جیل سے باہر آیا تھا، واپس آنے کے بعد ان دونوں فریقوں میں ایک بار پھر جھڑپ ہوئی اور اسی بحث کے دوران یہ واقعہ پیش آيا۔'
سنیچر کو سیتاپور کے ایس پی چکریش مشرا نے تصدیق کی کہ عباس اور قمرالنساء کے قتل میں نامزد پانچ ملزمان میں سے مرکزی ملزم شیلیندر جیسوال اور دو دیگر ملزمان امرناتھ اور پلو کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
گاؤں میں پولیس تعینات
سیتا پور کے ایڈیشنل ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ عباس کے بیٹے شوکت پر پہلے بھی جیسوال خاندان کی بیٹی کو فرار کرانے کا الزام تھا۔ اس وقت لڑکی نابالغ تھی تو شوکت کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور اسے جیل ہو گئی۔ اسی دوران لڑکی بالغ ہو گئی اور اس کے گھر والوں نے اس کی شادی کسی اور سے کر دی۔ شادی کے بعد وہ گھر واپس آئی اور پھر شوکت کے ساتھ چلی گئی۔ دونوں خاندانوں میں بہت تناؤ تھا۔'
ایڈیشنل ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ جب لڑکی دوبارہ چلی گئی تو اس کے گھر والے اس کی شکایت کرنے شوکت کے گھر گئے اور دونوں فریقین کے درمیان جھگڑا ہونے لگا اور مار پیٹ شروع ہوگئی۔ نل کا ہینڈل توڑ کر مارنا شروع کردیا۔ ملزم کا ایک بیٹا اور ایک داماد تھا۔حملے میں عباس اور اس کی بیوی ہلاک ہو گئے۔
اسے دو خاندانوں کے درمیان کا تنازع بتاتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ کہتے ہیں: 'یہ دو برادریوں کے لوگوں کے درمیان کا معاملہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ گاؤں میں دو گروپوں کے درمیان کا جھگڑا ہو، یہ دو خاندانوں کا معاملہ ہے۔'
اس سلسلے میں ایس پی چکریش مشرا نے واقعے کی شام میڈیا کو بتایا تھا: 'جائے حادثہ پر امن و امان کی صورتحال معمول کے مطابق ہے، پورے گاؤں میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔'
پولیس کی حفاظت میں شوکت
پولیس کے مطابق جب یہ خبر گھر سے فرار شوکت اور جیسوال خاندان کی لڑکی تک پہنچی تو دونوں خاموشی سے پڑوسی ضلع لکھیم پور کھیری میں واقع پولیس چوکی پہنچ گئے۔ پولیس کے مطابق شوکت اپنے والدین کی تدفین میں شامل ہوا ہے۔
دونوں کو پولیس نے محفوظ رکھا ہوا ہے۔
اس واقعے سے قبل لڑکی کے اہل خانہ نے تھانے میں ایک درخواست دی تھی جس میں اس کے اغوا اور قتل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ سیتا پور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لڑکی سے پوچھ گچھ کرے گی اور اس کا بیان ریکارڈ کرے گی۔
ایڈیشنل ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’لڑکا اور لڑکی دونوں ہمارے رابطے میں ہیں اور پولیس نے انھیں محفوظ رکھا ہوا ہے۔'