آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مارگلہ ہائیکنگ ٹریک پر ’ریپ کا جھوٹا الزام‘ لگانے والی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اسلام آباد میں مقامی عدالت نے شہر کے مقبول اور پرانے ہائیکنگ ٹریک ٹریل تھری پر مبینہ ریپ کے معاملے میں الزام لگانے والی خاتون کی جانب سے جھوٹ بولنے کے اعتراف کے بعد مذکورہ خاتون اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
بدھ کو معاملے کی سماعت کے دوران جج عدنان رسول نے پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ملزم نعمان رزاق کی ضمانت کی درخواست بھی منظور کر لی۔
یہ معاملہ جولائی 2023 کے وسط میں پیش آیا تھا جب تھانہ کوہسار میں سدرہ نامی خاتون کی مدعیت میں ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پولیس کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے مطابق خاتون کا کہنا تھا کہ انھیں ایک شخص نے محکمہ تعلیم میں نوکری کے جھانسے سے اسلام آباد بلایا اور جمعرات کی دوپہر قریب تین بجے جنگل میں گن پوائنٹ پر ریپ کیا اور اس کے ساتھ جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔
بعدازاں خاتون کے طبی معائنے اور تحقیقات کے بعد پولیس نے کہا تھا کہ خاتون کا دعویٰ غلط ہے اور وہ پولیس کے ساتھ تعاون کرنے سے گریزاں رہیں۔
19 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ نعمان کے ایک ساتھی نے جھگڑے کے بعد ان سے بدلہ لینے کے لیے ایک گروپ سے رابطہ کیا تاکہ ان پر ریپ کا جھوٹا الزام لگایا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس منصوبے کا مقصد ملزم اور اس کے اہل خانہ کو ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنا تھا اور اس منصوبے کے تحت ہی سدرہ نعمان کے ساتھ ٹریل تھری پر گئیں جہاں پہنچ کر انھیں ریپ کا الزام لگانا اور چیخ و پکار کرنی تھی اور اس دوران ان کے گروپ کے باقی افراد کو موقع پر پہنچ کر ویڈیو بنانی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سدرہ کی نعمان سے ٹریل تھری پر ملاقات تو ہوئی لیکن ان کے ساتھی وہاں نہیں پہنچ سکے اور کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد وہ ملزم کے ساتھ واپس راولپنڈی چلی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کو مذکورہ خاتون نے عدالت کے سامنے اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا جس میں انھوں نے ڈیڑھ لاکھ روپے کے عوض ملزم نعمان کے خلاف جنسی زیادتی کا کیس درج کروانے کا اعتراف کیا
خاتون کی جانب سے فراڈ کے اعترافی بیان کے بعد بدھ کو عدالت نے نعمان رزاق کی ضمانت منظور کر لی اور ساتھ ہی ساتھ سدرہ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
خاتون نے ابتدائی بیان میں کیا کہا؟
شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون نے ایف آئی آر میں پولیس کو دیے بیان میں بتایا تھا کہ نوکری کی تلاش کے دوران ایک شخص نے ان سے دعویٰ کیا کہ وہ محکمہ تعلیم میں اکاؤنٹینٹ ہے اور اس کے پاس ’کچھ آسامیاں خالی ہیں جن پر میں آپ کو نوکری دلوا سکتا ہوں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اس شخص نے ان سے 50 ہزار روپے بطور رشوت مانگے اور ان کی درخواست پر وہ راولپنڈی آگئیں۔
وہ کہتی ہیں کہ پہلی ملاقات کے دوران انھوں نے اس شخص کو اپنی سی وی اور 30 ہزار روپے دیے۔ ’میں نے 20 ہزار روپے ملازمت کا تحریری آرڈر وصول کرنے پر ادا کرنے تھے۔‘
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس شخص نے ان سے کہا کہ ’ایک سینیئر آفیسر سے آپ کو ملوانا ہوگا جو تمام امیدواران کے انٹرویو لیں گے۔ ملاقات کسے ان کی آپ کے ساتھ شناسائی ہوجائے گی اور وہ بغیر کسی اعتراض آپ کو منتخب کر لیں گے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ 13 جولائی کو یہ شخص انھیں موٹر سائیکل پر بٹھا کر ٹریل تھری لے آیا۔ خیال رہے کہ یہ اسلام آباد کا ایک پرانا اور مشہور ہائیکنگ ٹریک ہے جہاں سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگ بھی آتے رہتے ہیں اور جنگلی حیات کی موجودگی کی وجہ سے اس کا انتظام محکمۂ وائلڈ لائف کے پاس ہے۔
متاثرہ خاتون کے مطابق اس شخص نے ’جنگل میں پہنچ کر زبردستی میرے ساتھ گن پوائنٹ پر ریپ کیا، شور مچانے کی صورت میں مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی‘۔
خیال رہے کہ رواں سال دو فروری کو ایف نائن پارک میں خاتون کو گن پوائنٹ پر ریپ کرنے کے واقعے پر تھانہ مارگلہ کی پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔
مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون شام کے وقت اپنے ساتھی کے ساتھ ایف نائن پارک میں موجود تھیں جب دو مسلح افراد نے دونوں کو گن پوائنٹ پر زد و کوب کیا اور انھیں پارک سے متصل جنگل میں لے جا کر ریپ کیا تھا۔
اسلام آباد کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کیس میں ملوث دو ملزمان پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ہیں۔