راوی ریور فرنٹ منصوبہ: ’کسانوں کے لیے روڈا ایسٹ انڈین کمپنی کی طرح ہے‘

    • مصنف, بے نظیر شاہ
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

16 ستمبر کو عصر کے قریب پنجاب حکومت کے اہلکاروں کی ایک ٹیم پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ شیخوپورہ کے فقیر محمد وڑائچ کی زرعی زمینوں پر پہنچی۔

فقیر وڑائچ کے ٹریکٹر کو اس وقت قبضے میں لے لیا گیا، جب وہ کھیتوں میں ہل چلا رہے تھے۔ ایک ویڈیو میں فقیر وڑائچ کو اہلکاروں سے بحث کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک اہلکار نے فقیر وڑائچ کو یہ بتاتے ہوئے کہ ان کا خاندانی کھیت اب سرکار کی راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کی ملکیت ہے، کہا کہ ’یہ ٹریکٹر نہیں چلے گا۔‘

فقیر وڑائچ نے جواب دیا ’(ٹریکٹر) کیوں نہیں چلے گا؟ یہ ہماری زمین ہے۔ آپ لوگوں کو کوئی حق نہیں کہ یہاں آئیں اور مجھے ٹریکٹر چلانے سے روکیں۔‘

فقیر وڑائچ نے پھر اہلکار کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ فروری میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے روڈا (RUDA) پر پابندی لگا دی تھی اور اسے صرف اس زمین پر تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی جو اس نے معاوضہ ادا کر کے حاصل کر رکھی ہے۔

البتہ فقیر وڑائچ کا فارم اس زمرے میں نہیں آتا۔ درحقیقت فقیر وڑائچ کا اپنی زمین کو فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، جو ان کے خاندان کے پاس 1947 سے ہے۔

اہلکاروں نے واپس جانے سے انکار کیا جس پر فقیر واڑائچ نے ان سے طیش میں پوچھا کہ ’قانون والی بات کرنی ہے یا بدمعاشی کرنی ہے۔ اگر بدمعاشی کرنی ہے تو پھر کرو۔‘

باہر نکلتے ہوئے پنجاب حکومت کے اہلکاروں اور پولیس نے فقیر وڑائچ کے خاندان کی طرف سے لگائی گئی فصل کو بلڈوز کر دیا اور زمین پر ٹائر کے نشان چھوڑ گئے۔

روڈا کے اہلکاروں اور فقیر وڑائچ جیسے کسانوں کے درمیان جھگڑا تقریباً ایک سال سے جاری ہے جب کئی ہزار خاندانوں کو دریائے راوی پر نئے شہر کی تعمیر کے لیے اپنی زمینیں پنجاب حکومت کے حوالے کرنے کا کہا گیا تھا۔

فقیر وڑائچ کے والد سجاد وڑائچ راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ان کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کے خلاف مقامی کسانوں کے احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔ سجاد وڑائچ کے خلاف پولیس میں متعدد شکایات درج کرائی گئی ہیں جن میں سے کچھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ہیں۔ وہ شیخوپورہ کی ایک جیل میں 24 دن تک قید بھی رہے۔

جس دن ہم ان کے کھیتوں پر گئے تو وہ ابھی اپنے حق میں ایک اور ضمانت حاصل کر کے واپس آئے تھے۔ اپنے گھر میں سجاد وڑائچ کی اہلیہ اسما سلیمان نے بتایا کہ ’ہماری تیار فصل کو تباہ کر دیا گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کا آدھا پاکستان سیلاب میں ڈوب گیا ہے۔ باقی جو زمین بچ گئی ہے اسے تو رہنے دیں۔‘

اسی طرح نذیر احمد اس 40 ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں جو روڈا ان سے لینا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ ماہ اپنی زمین کاشت کر رہے تھے جب اہلکار بھاری مشینری کے ساتھ آئے اور ان کی فصلوں کو کچل دیا۔ جب انھوں نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی۔

راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کیا تعمیر کیا جا رہا ہے؟

اگست 2020 میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے راوی ریور فرنٹ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا افتتاح کیا جس کا مقصد سرکاری دستاویزات کے مطابق دریائے راوی کے کنارے پر ’پاکستان کا پہلا اور اس کا سب سے بڑا ریور فرنٹ‘ شہر بنانا ہے۔

عمران خان کئی بار اس جگہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ ستمبر میں انھوں نے ایک ٹویٹ میں اس منصوبے کے بارے میں فخر سے لکھا کہ یہ منصوبہ قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بہت سے مواقع فراہم کرے گا۔

لاہور اور شیخوپورہ کے مضافات میں 107,000 ایکڑ اراضی پر پھیلے ہوئے اس شہر میں اپنی تعمیر کے بعد 12 سیکٹرز ہوں گے جن میں میڈیکل سٹی، سپورٹس سٹی، کمرشل سٹی، ڈاون ٹاؤن اور تقریباً 12 ملین لوگوں کی رہائش کے لیے ایک بڑی ہاؤسنگ سکیم شامل ہوں گے۔

اس منصوبے کی سرکاری ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ’راوی ریور فرنٹ سٹی لاہور کے لوگوں کو ایک ایسی جگہ فراہم کرے گا جہاں وہ بھرپور زندگی گزار سکیں گے اور شہر کی بھرپور ثقافت اور ورثے کو زندہ رکھتے ہوئے بہت سے مواقع حاصل کر سکیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس شہر کو بنانے کے لیے پنجاب حکومت نے 2020 میں راوی اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ منظور کیا جس سے روڈا کا قیام عمل میں لایا گیا۔

نئے شہر کی تعمیر کو یقینی بنانے اور مطلوبہ زمین کے حصول کے لیے ریاستی حکام کسانوں اور رہائشیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے لیے 1894 کے قانون کو استعمال کر رہے ہیں جسے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کہا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 صرف عوامی مقاصد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زمین حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ راوی ریور فرنٹ ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ عوام کے لیے نہیں بلکہ یہ نجی سرمایہ کاروں کے لیے ہے۔

روڈا خود اس شہر کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کہتا ہے جہاں زمین کا ایک حصہ نجی ہاؤسنگ سکیم بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

2020 کا قانون روڈا کے اہلکاروں کو مزید اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو اس کی ملکیت والی زمین سے نکال دیں اور ’ضرورت کے مطابق طاقت کا استعمال کریں۔‘

کیا روڈا کی سرگرمیاں قانونی ہیں؟

گذشتہ سال احتجاج کرنے والے کسان اس معاملے پر روڈا کو عدالت لے گئے تھے۔

جنوری میں لاہور ہائی کورٹ نے ان تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منصوبے پر کام روک دیا تھا۔ تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ کس طرح ماسٹر پلان یا ماحولیاتی اثرات کے جائزے کے بغیر شروع کیا گیا ہے۔

عدالت نے مزید کہا تھا کہ پنجاب میں مقامی حکومت کے ساتھ معاہدے کے بغیر منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔ اس منصوبے سے پیچھے ہٹنے کے بجائے روڈا اور پنجاب حکومت نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

فروری میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک طرف رکھتے ہوئے روڈا کو تعمیرات کی اجازت دی لیکن صرف اس زمین پر جو اس نے حاصل کی تھی اور جہاں مالکان کو ادائیگی کی جا چکی تھی۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ پھر اگست میں روڈا نے اس زمین کو بھی ہتھیانا شروع کر دیا جو اس کے قبضے میں نہیں تھی اور لوگوں کو ان کی زرعی زمینوں سے زبردستی ہٹانے کے لیے اپنے ساتھ پولیس اہلکار بھی لے آئے۔

احتجاج کرنے والے ریلیف کے لیے دوبارہ عدالتوں میں چلے گئے۔ 11 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ 2020 کو لاہور ہائی کورٹ نے جنوری میں کالعدم قرار دیا تھا لیکن پھر پنجاب حکومت نے قانون میں کوئی تبدیلی کیے بغیر اسے 14 ستمبر کو دوبارہ منظور کر دیا۔

عدالت نے بالآخر روڈا کو سماعت کی اگلی تاریخ تک سپریم کورٹ کے حکم میں لگائی قدغن کے علاوہ کام شروع کرنے سے روک دیا ہے۔

روڈا کا دفاع کیا ہے؟

اپریل 2021 سے روڈا کے سی ای او عمران امین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ روڈا کے دائرہ اختیار میں آنے والے ایک لاکھ ایکڑ رقبے میں 71 ہاؤسنگ سکیمز ہیں۔

عمران امین نے کہا ’یہ غیر قانونی (ہاؤسنگ) سکیمیں جنھوں نے دھوکہ دہی کے ذریعے لوگوں کو زمینیں بیچی ہیں وہی یہ باتیں اُڑا رہے ہیں کہ ہم سے زبردستی زمین لے رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہاؤسنگ سکیمز کو ریگولرائز نہیں کروانا چاہتے۔

عمران امین نے بتایا کہ ’یہ ہاؤسنگ سکیمز کچھ لوگ کرائے پر بھرتی کر لیتی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ فلاں فلاں کیا جا رہا ہے۔ پھر وہ ویڈیو بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سے زبردستی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو ان ہاؤسنگ سکیموں سے سیاست زدہ کیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ علاقے میں جن کسانوں کی زمینیں ہیں ان میں سے 70 فیصد روڈا کے ساتھ ہیں اور انھیں پہلے ہی معاوضہ دیا جا چکا ہے۔

سی ای او روڈا نے وضاحت دی کہ نیا شہر تین مراحل میں تعمیر کیا جائے گا اور اسے مکمل ہونے میں 10 سے 15 سال لگیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پر تقریباً 700 ارب روپے لاگت آئے گی۔

تو پھر کسان احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟

کسانوں کے ساتھ احتجاج کرنے والے مصطفیٰ رشید کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ سکیم کے علاوہ اسی زمین پر آٹھ گاؤں بھی آباد ہیں جو روڈا اور سرمایہ کار ہتھیانا چاہتے ہیں۔

مصطفیٰ رشید بتاتے ہیں کہ ’سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں بہت واضح کیا تھا کہ روڈا صرف اسی زمین پر تعمیر شروع کر سکتا ہے جو اس نے حاصل کی ہے اور جہاں کسانوں کو ادائیگی کی گئی ہے۔‘

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’جو ہمارے اندازے کے مطابق 300 ایکڑ سے زیادہ نہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ پھر بھی سرکاری اہلکار کسانوں کو ہراساں کر رہے ہیں اور زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

رشید، وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انھیں اس پراجیکٹ کو چھوڑنے پر راضی کر سکیں لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا حالانکہ ان کے اپنے بھائی محمود الرشید پنجاب حکومت میں وزیر ہیں۔

مصطفیٰ رشید کا کہنا تھا کہ ’ہم کسانوں کے لیے روڈا ایسٹ انڈین کمپنی کی طرح ہے۔‘

ایک غریب کسان باؤ بھٹی جو اپنے سات بچوں کے ساتھ رہتے ہیں، کو روڈا کے اہلکاروں نے اس ماہ اپنی فصلوں کو پانی دینے سے روک دیا۔ جب انھوں نے بات نہیں مانی تو ان کا واٹر پمپ اکھاڑ دیا اور ان کے خلاف پانچ ایف آئی آر درج کروا دیں۔

اپنی تباہ فصلوں کے درمیان کھڑے باؤ بھٹی پوچھ رہے تھے کہ ’میرا گناہ کیا ہے؟‘

اس سے قطع نظر کہ حکومت انھیں کتنی رقم کی پیشکش کرتی ہے، باؤ بھٹی اپنی زمین بیچنا نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت نہیں لٹیرے ہیں۔‘ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’ہم سے کہتے ہیں کہ یہاں سے جاؤ، ہم نے کدھر جانا ہے؟ یا تو ہمیں ہماری ہی زمین پر مار دو۔‘

ان کے پاس کھڑے ایک بوڑھے کسان بشیر احمد نے آہستہ سے ان کی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ’ایک ہوتا ہے رات کا چور۔ روڈا دن کا چور ہے۔‘