آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پنجاب میں پولنگ کا وقت ختم ہو چکا، نتائج کا اعلان بعد میں کیا جائے گا‘
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
’کیا آپ نے اپنا ووٹ ڈال دیا ہے؟ پولنگ سٹیشنز کے باہر کتنا رش ہے؟ کتنے فیصد لوگوں نے اب تک ووٹ کاسٹ کیا ہے؟‘
’اپنا حق رائے دہی ادا کریں، جلد از جلد اپنا ووٹ ڈال کر اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کریں، ووٹ دالنے کے بعد اپنے انگوٹھے کی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا مت بھولیں‘۔۔۔
یہ سوالات اور مشورے پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب طنزیہ انداز میں ٹوئٹر پر دیے گئے۔
یاد رہے کہ 14 مئی، وہ تاریخ ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں الیکشن کروانے کے لیے دی گئی تھی۔
صرف چند ماہ پیچھے جائیں تو جنوری میں تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا تھا جس کا مقصد ملک میں عام انتخابات کے لیے وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنا بتایا گیا تھا۔
تحریک انصاف کا مطالبہ یہ تھا کہ پاکستان میں جلد از جلد عام انتخابات کروائے جائیں۔ تاہم کئی ماہ گزر جانے اور سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود پنجاب میں الیکشن نہیں ہو سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے 30 اپریل کی تاریخ دی تھی تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز نہ ملنے اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے بریفنگ ملنے کے بعد اس شیڈول تبدیل کرتے ہوئے آٹھ اکتوبر کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
اس اعلان کے بعد تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے درکار فنڈز فراہم کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مزاکرات کا آغاز ہوا جس میں ایک ہی دن ملک بھر میں الیکشن کے انعقاد پر تو اتفاق ہوا لیکن تاریخ پر اختلافات کے باعث یہ مزاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔
پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ صوبائی الیکشن اور عام انتخابات ملک میں الگ الگ ہوئے ہوں۔
’آج الیکشن ہوں گے لیکن ترکی میں‘
سپریم کورٹ کے حکم کے تحت آج پنجاب میں الیکشن منعقد نہیں ہو پائے تاہم سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کافی بحث ہوئی۔
ٹوئٹر صارف علی نے لکھا کہ ’چیف جسٹس نے آج کے دن پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے۔ کوئی جا کر انھیں تسلی دے کہ آج الیکشن ہوں گے لیکن ترکی میں۔‘
ایک اور ٹوئٹر صارف شہزاد نے ترکی کی ہی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’آج الیکشن میں لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ آج کے الیکشن کافی اہم سمجھے جا رہے۔۔۔ جی ہاں ترکی میں آج صدارتی الیکشن جاری ہے۔‘
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری نے ٹویٹ کی کہ ’آج 14 مئی چونکہ پنجاب میں الیکشن کا دن تھا، آج ہی کے روز ورچوئل پولنگ کرانے کا بھی فیصلہ کیا۔ ورچوئل پولنگ کے لیے بلے پر ٹھپہ ہیش ٹیگ چلائیں گے اور آج 14 تاریخ کو یوم انتخابات کے طور پر منانے کا اعلان کریں گے۔‘
کچھ سوشل میڈیا صارفین ایسے بھی تھے جنھوں نے تحریک انصاف پر تنقیدی انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج الیکشن ہو رہے ہیں، سو فیصد ووٹ عمران خان لے کر پہلی پوزیشن پر ہیں جبکہ مخالف پارٹی کو ایک بھی ووٹ نہیں پڑا اور آج رات ہی خان صاحب حلف اٹھائیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
کچھ صارفین مسلسل ٹوئٹر پر سارا دن طنزیہ انداز میں الیکشن اپ ڈیٹ بھی دیتے رہے۔
ٹوئٹر صارف نجم علی نے لکھا: ’پی ٹی آئی والوں کو پولنگ سٹیشن نہیں مل رہے۔ میرے پولنگ سٹیشن کا عملہ غائب ہے۔ دھوپ تیز ہے، ووٹ ڈالنے سر پر گیلا تولیہ رکھ کر جائیں اور اس وقت تک پہرہ دیں جب تک گنتی مکمل نہ ہو جائے، بلے پر مہر لگانے کے لئے بلا گھر سے ساتھ لائیں، شکریہ۔‘
کچھ صارفین ایسے بھی ہیں جنھوں نے اس معاملے پر سنجیدگی سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت وقت پر الیکشن کرانا اور ووٹ ڈالنا ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے جو اسے ملنا چاہیے۔
ادھر چند صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب میں انتخابات نہیں ہوئے تو اب کیا ہو گا۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نظر ثانی کی اپیل پر سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سوموار کے دن کیس کی سماعت کرے گا۔